پیٹرولیئم مصنوعات میں اضافے کا فیصلہ واپس

Image caption پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کے بعد حکومت سے علیحدہ ہونے والی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے تمام پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان کی متفقہ سفارش پر جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا جانے والا اضافہ واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ناخوش تھی اس لیے حکومت نے یہ اضافہ واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان حکومت نے یکم جنوری سے پانچ سے نو فیصد تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی وجہ تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کے بعد حکومت سے علیحدہ ہونے والی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کی بنیاد پر قیمتوں میں رد و بدل پارلیمان کی ایک کمیٹی کرے گی۔ پارلیمانی کمیٹی میں تمام جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہوگی اور یہ کمیٹی جلد قائم کردی جائے گی۔

اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان اور دیگر نے اس موقع پر حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ حکومت کی شکست یا اپوزیشن کی جیت نہیں ہے۔ بلکہ ان کے بقول مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے بھلے کا فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل قومی اسمبلی میں حکومت اور حزبِ مخالف میں ایک تلخ ماحول پیدا ہوگیا تھا لیکن وزیراعظم جیسے تدبر والے حکومتی لوگوں کی وجہ سے ماحول بہتر ہوا ہے۔

تاہم انہوں نے وزیر قانون بابر اعوان کا نام لیے بنا کہا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو آگ لگانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اگر پنجاب کا گورنر بننا ہے تو وہ کوئی اور طریقہ اختیار کرے ملک کو نقصان نہ پہنچائے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کا قتل ایک افسوسناک معاملہ ہے اور تحقیقات سے پہلے اُسے سیاسی قتل قرار دینے والے لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے اور لوگوں کو لڑانا نہیں چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے اور حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تمام جج متفقہ طور پر تعینات کیے گئے ہیں اور وہ سلمان تاثیر کے قتل کی جانچ کر رہے ہیں جس کا سب کو انتظار کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اوگرا یعنی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اعتبار سے فیصلہ کرتی ہے۔ لیکن اب یہ اختیار اگر پارلیمانی کمیٹی کو دیا جاتا ہے تو اس کے لیے قانون میں ترمیم کرنا ہوگی۔

اسی بارے میں