قادری کی پیشی اور وکلاء کی گل پاشی

ممتاز قادری
Image caption ممتاز قادری کو بعض وکلاء نے پھولوں کے ہار پہنائے

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں گرفتار ممتاز قادری کے خلاف عدالتی کارروائی راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں جاری ہے۔ لیکن عدالت میں ملزم کی پیشی کے دوران جو مناظر دیکھے گئے، جس طرح سے بعض وکلاء اور دیگر افراد نے ان کا استقبال کیا اس بارے میں ایک بحث چل رہی ہے۔

وکلاء کے رویے کو کچھ لوگ ذاتی فعل، بعض حیران کن جبکہ دیگر اسے معاشرے میں پائے جانے والے رجحانات کی عکاسی قرار دیتے ہیں۔ تاہم گزشتہ دنوں ججوں کی بحالی اور قانون اور آئین کی بالادستی کے تحریک میں پیش پیش سرکردہ وکلاء رہنماؤں نے بظاہر چپ سادھی ہوئی ہے۔

گورنر پنجاب کے قتل کے بعد پاکستانی معاشرے میں بعض لوگوں کے لیے جو قابل حیرت رجحانات سامنے آئے ان میں ایک ملزم ممتاز قادری کا عدالتی پیشی کے وقت بعض وکلاء کی جانب سے خیرمقدم اور اس کا مقدمہ لڑنے کے لیے فریق بنے کا اعلان ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں ایک انسان کے قتل کے ملزم کا اس طرح کا استقبال نہیں ہونا چاہیے تھا جبکہ دوسری جانب اس استقبال کو کئی مبصرین اس معاشرے میں پائے جانے والے رحجانات کی عکاسی بھی قرار دیتے ہیں۔

انہیں وکلاء نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک غیرمعمولی تحریک چلائی تھی لیکن آج اس تحریک کے اکثر سرکردہ رہنماؤں نے اس پر بات کرنے سے انکار کر دیا یا بعض سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تاہم سب سے پہلے ممتاز قادری کے وکیل اور راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے صدر وحید انجم سے بات کی اور اس مقدمے کا دفاع کرنے کے فیصلے کی وجہ جانا چاہی۔

ان کا اصرار تھا کہ وکلاء نے متحد ہو کر یہ قرارداد منظور کی تھی کہ بار کو اس کیس کا دفاع کرنا چاہیئے۔ ’چونکہ میں بار کا صدر ہوں اس لیے میں وکیل ہوں ان کا۔‘

انہیں ممتاز قادری کو قاتل کہنے پر بھی اعتراض تھا۔ ’ابھی اس پر صرف الزام ہے، اور جب تک کوئی عدالت خواہ وہ پاکستان میں ہو یا دنیا میں کہیں بھی، یا قاضیِ وقت شہادتوں کے بعد یہ ثابت نہ کر دے کہ کوئی شخص قاتل ہے تو اسے قاتل نہیں کہا جا سکتا۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ اس نے تو بقول حکومت اقبالِ جرم کیا ہے، وحید انجم نے واضح کیا کہ اقبالِ جرم وہ ہوتا ہے جو کسی ایسی عدالت میں جو اس اقبالِ جرم کو ریکارڈ کرنے کی اہل ہو، اس کے سامنے کھڑا ہو کر اقبالِ جرم کیا جائے، اور وہ پولیس کی حراست میں نہ ہو، آزاد ہو، اس کو ہتھکڑیاں نہ لگی ہوں تب وہ بیان دے اور اس پر چارج لگے۔ ’پولیس اگر کہہ دے کہ فلاں قاتل ہے اور فلاں نے ہمیں کہہ دیا ہے، تو درست نہیں ہے۔‘

وکلاء کی جانب سے گل پاشی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تو ہر آدمی کا حق ہے کہ وہ اس جو چاہے سمجھے۔ ’کوئی اس کو ملزم جبکہ کوئی اسے ہیرو سمجھتا ہے۔ کوئی اُس پر پھول پھینکتا ہے تو یہ اس کے اپنی عقیدت ہے، کوئی اسے ہتھکڑیاں لگا کر بجلی کا کرنٹ لگاتا ہے تو وہ بھی اس کا اپنا اختیار ہے۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ملزم کی نہ تو حمایت کر رہے ہیں اور نہ اسے ہیرو بنا رہے ہیں۔ ’کسی وکیل کے بارے میں میں کیا کہہ سکتا ہوں، میرا تو کسی سے تعلق نہیں ہے۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

وکلاء کی جانب سے عدالت کے جج کو اسلام آباد میں سماعت سے روکنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک درخواست دائر کی کہ قانون کے مطابق اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت صرف ٹرائل کے لیے عدالت تبدیل ہو سکتی ہے، ریمانڈ یا ضمانت کے لیےاسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جس پر جج صاحب نے فیصلہ فرمایا۔ ’دیکھیں کتنے پُرامن طریقے سے انہیں لایا گیا ہے کوئی سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہوا۔ وکلاء نے کوئی احتجاج نہیں کیا کہ کیوں پانچ دن کا ریمانڈ دے رہے ہیں۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ اُن کی نظر میں وکلاء کو قانون کے اندر رہتے ہوئے ردعمل ظاہر کرنا چاہیئے اور گُل پاشی جیسے اقدامات درست نہیں۔ تاہم دانشور اور معروف وکیل عابد حسن منٹو کا اصرار ہے کہ چند وکلاء کے رویے کو تمام وکلاء کی سوچ کے طور پر پیش کرنا غلط ہے۔

’آپ کو اس طرح کے کئی ڈاکٹر، پروفیسر اور استاد مل جائیں گے۔ تو پھر اگر وکیل ہیں تو کوئی ایسی انہونی بات نہیں۔‘

جس طرح کی میڈیا کوریج ممتاز قادری کو مل رہی ہے اس سے بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ عدالت دباؤ میں آسکتی ہے۔ تاہم امکان ہے کہ اہم مقدمات کی طرح اس مقدمے کو بھی جیل کے اندر ہی چلایا جائے۔ وکیل رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کہتے ہیں کہ ماضی میں ایسے کئی ہائی پروفائل مقدمات جیل کے اندر چلائے گئے ہیں اور توقع ہے کہ اس مرتبہ بھی آگے چل کر یہی ہو۔‘

اسی بارے میں