تاثیر قتل: ’مقدمہ کی سماعت جیل کے اندر‘

Image caption جیل میں مقدمے کی سماعت صرف اُسی صورت میں ممکن ہے جب مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے: سرکاری وکیل

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں پبلک پراسکیوٹر یعنی سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس کی سماعت جیل کے اندر کرنے کی درخواست دی جائے گی۔

سرکاری وکیل طیب شاہ نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت جیل میں اسی طرح ہوگی جس طرح سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو اور ممبئی حملہ سازش کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اُنہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس مقدمے کے ملزم ممتاز قادری کی سیکورٹی کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ وفاقی یا صوبائی حکومت اس مقدمے کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اپنے تئیں اس کی سماعت ان کیمرہ یعنی جیل کے اندر کرنے کے احکامات بھی جاری کرسکتی ہے اور اس حوالے سے متعلقہ جج کی رائے لینا ضروری نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ قتل کے مقدمے میں عمومی طور پر پولیس ملزم کا چودہ روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرتی ہے جبکہ سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں اور پولیس ایک ماہ تک ملزم کو تفتیش کے سلسلے میں اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ جیل میں مقدمے کی سماعت صرف اُسی صورت میں ممکن ہے جب اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے۔

اُدھر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحققاتی ٹیم نے ملزم ممتاز قادری کے والد اور دو بھائیوں کو رہا کردیا ہے جبکہ اُس کے دو بھائیوں کے علاوہ ایلیٹ فورس کے بیس اہلکار ابھی تک پولیس کی تحویل میں ہیں۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کو حفاظتی نکتہ نظر سے مختلف جگہوں پر رکھا جارہا ہے۔ ملزم کو راول ڈیم کے قریب واقع ایک ریسٹ ہاؤس میں بھی رکھا گیا جہاں پر سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے لال مسجد آپریشن کے دوران لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کو بھی رکھا گیا تھا۔

ملزم ممتاز قادری کی ایک ویڈیو یو ٹیوب پر بھی آئی ہے جس میں وہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے اہلکاروں کی موجودگی میں بلند آواز میں نعت پڑھ رہے ہیں۔ یہ ویڈیو کسی موبائل فون سے بنائی گئی ہے اور اس شُبے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس میں وہ شخص ملوث ہیں جو اس تحققیاتی ٹیم کا بھی حصہ ہے۔

اس ضمن میں جب اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی ائی جی بنیامین سے پوچھا تو انہوں نے اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اس واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا جائے گا۔

اُدھر راولپنڈی کے ریجنل پولیس افسر حامد مختار گوندل نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو مناسب سیکورٹی فراہم نہ کرنے پر راولپنڈی پولیس کے چیف سیکورٹی افسر ناصر جمال کو معطل کرکے اُن کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

اسی بارے میں