تاثیر قتل کیس: تفتیش جاری

سلمان تاثیر فائل فوٹو

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے حقائق جاننے کے لیے پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ کے ایڈشنل آئی جی ناصر خان درانی کی سربراہی میں قائم کی جانے والی تین رکنی کمیٹی نے راولپنڈی پولیس کے چیف سکیورٹی افسر خالد ستی اوراعجاز یوسف سے تفتیش کی ہے۔

پنجاب پولیس کی اس کمیٹی میں ڈی آئی جی مشتاق سُکھیرا اور ڈی آئی جی شعیب دستگیر بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے راولپنڈی پولیس کو ایک خط تحریر کیا گیا تھا جس میں حکومتی عہدوں پر فائض اہم شخصیات کی سیکورٹی پر تعینات پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے جوانوں کے کوائف کی جانچ پڑتال کے بارے میں کہا گیا تھا لیکن اِن پولیس اہلکاروں پر الزام ہے کہ اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔

مذکورہ ٹیم نےگورنر پنجاب کے قتل کے بارے میں وزیرِاعلی پنجاب کو جو عبوری رپورٹ دی تھی اُس میں اِس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ سلمان تاثیر کا وقوعہ کے روز سیکورٹی کے بغیر نکلنا درست نہیں تھا۔ اِن پولیس افسران کو شہر نہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ اُن کے گھر کے باہر پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کمیٹی کے سربراہ ناصر خان درانی سے رابطہ کیا گیا تو اُنہوں نے اس حوالے سے کچھ بتانے سےگُریز کیا۔

اس تحقیتقاتی ٹیم نےاسلام آباد میں جائے حادثہ کا بھی دورہ کیا اور سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی بنیامین سے ملاقات کی اور ملزم ممتاز قادری سے ہونے والی تفتیش کے بارے میں تبادلہ خیال بھی کیا۔

راولپنڈی پولیس کی سکیورٹی برانچ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سپیشل برانچ یا کسی او ر خفیہ ادارے کی جانب سے ایسا کوئی خط تحریر نہیں کیا گیا تھا جس میں کہا گیا ہو ممتاز قادری کو اہم شخصیات کی سکیورٹی کی ڈیوٹی ادا کرنے والے سکواڈ میں شامل نہ کیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر ایلیٹ فورس میں شامل کسی بھی اہلکار کے کردار سے متعلق کوئی شک ہو تو اُسے فوری طور پر ایلیٹ فورس سے نکال دیا جاتا ہے اور اُس کے خلاف تحقیقات شروع ہوجاتی ہیں۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے ممتاز قادری کے خلاف محکمانہ کارروائی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

پنجاب پولیس نے ایس پی راولپنڈی پولیس ہیڈ کوراٹر رانا شاہد کو راولپنڈی میں ایلیٹ فورس کا سربراہ مقرر کیا تھا اس سے پہلے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اس فورس کی نگرانی کر رہے تھے تاہم اُن کی تبدیلی کے بعد یہ عہدہ خالی تھا۔ ریجنل پولیس افسر ( آر پی او) راولپنڈی حامد مختار گوندل کو عارضی طور پر شہر کی پولیس کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

رانا شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ راولپنڈی میں چار سو اڑسٹھ ایلیٹ فورس کے اہلکار تعینات ہیں جن کے کوائف کے بارے میں ازِ سرنو تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اِن اہلکاروں کےکوائف کی چھان بین کے لیے سپیشل برانچ کے علاوہ انٹییلیجنس ایجنسی کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے حراست میں لیے گئے گیارہ افراد کو رہا کردیا ہے۔

اُ ن میں سلمان تاثیر کےگھر پر تعینات خانسامہ، پولیس اہلکاراور ٹریفک وارڈن شامل ہیں جبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار ابھی تک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحویل میں ہیں جو سلمان تاثیر کی سیکورٹی پر تعینات تھے۔

اسی بارے میں