’سلمان تاثیر شہیدِ حق ہیں‘

شہباز بھٹی
Image caption شہباز بھٹی نے گورنر سلمان تاثیر کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور انھیں شہید حق کا خطاب دیا۔

پاکستان کے اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی نے ایک بار پر یہ موقف دھرایا کہ توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کی جانی چاہیے تاکہ اس کا غلط استعمال روکا جاسکے۔

انھوں نے اتوار کو ان خیالات کا اظہار آل پارٹیز اقلیتی اتحاد کے طرف سے اسلام آباد کے ایک چرچ میں پنچاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

شہباز بھٹی نے کہا ’پاکستان کی تمام اقلیتیں پیغیر اسلام اور الہامی کتابوں کا دل سے احترام کرتی ہیں اور ان کی توہین کا تصور بھی نہیں کرسکتیں لیکن بعض لوگ اس قانون کو ذاتی انتقام کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس قانون کی آڑ میں بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں‘

انھوں نے کہا کہ اس قانون کا نشانہ نہ صرف اقلیت بلکہ اکثریت کے لوگ بھی بن رہے ہیں لہذا اس قانون پر نظر ثانی ہونی چاہیے تا کہ اس کا غلط استعمال روکا جاسکے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق شہباز بھٹی نے کہا کہ اس کا حل مشاورت اور بحث مباحثے سے ہونا چاہیے نا کہ سڑکوں پر۔

’میری تمام سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں سے یہ اپیل ہے کہ اس معاملے کا حل مل بیٹھ کر نکالا جائے اور جو بے گناہ لوگ اس کا نشانہ بن رہے ہیں اس سلسلے کو روکا جائے‘۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض عناصر خوف و ہراس پیدا کر کے یہ سمجھتے کہ اقلتیوں کا ڈرایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اقلیتیوں کے مسائل اور ان پر ہونے والے مظام پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے اور حق کے لئے آواز اٹھائیں گے۔

شہباز بھٹی نے کہا کہ وہ انتہا پسندوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے اور پاکستان کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔

’وہ لوگ جو مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں ان کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے اصولی موقف سے نہیں ہٹ سکتے خواہ ہمیں قتل کیا جائے یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے‘۔

’ہم نے حق اور سچ کی آواز بلند کی ہے۔ ہم قربانیاں دینے سے نہیں گھبراتے اور نہ ہی دھمکیوں سے ڈرنے والے ہیں۔ بزدل لوگ دھمکیاں دیتے ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ لوگ مختف جگہوں پر ان لوگوں کے خلاف فتوے جاری کر رہے ہیں جو توہین رسالت کے قانون کے بارے میں اپنا نقط نظر پیش کر رہے ہیں۔

شہباز بھٹی نے کہا کہ اگر سلمان تاثیر کے بعد کسی بھی ایسے شخص کو نشانہ بنایا گیا جو توہین رسالت کے قانون کے بارے میں اپنی آواز اٹھاتا ہے تو فتویٰ جاری کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا جائے گا کیوں کہ وہ لوگوں کو اکسا رہے ہیں اور انھیں مشتعل کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جو لوگ سلمان تاثیر کے قاتل کو پھولوں کے ہار پہنا رہے اور ان کے قتل پر مٹھایاں تقسیم کررہے ہیں وہ اللہ سے ڈریں۔

انھوں نے مقتول گورنر سلمان تاثیر کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور انھیں شہید حق کا خطاب دیا۔

شہباز بھٹی نے کہا کہ ’سلمان تاثیر نے اس ملک کے محروم و مظلوم طبقوں کی آواز بن کر ان کے حق کی بات کی، بہادری کے ساتھ ان کا مقدمہ لڑا اور اسی وجہ سے مذہبی جنونیوں نے انھیں قتل کردیا‘۔

اسی بارے میں