ناموسِ رسالت ریلی میں ہزاروں کی شرکت

Image caption شرکاء نےگورنر پنجاب کے مبینہ قاتل کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں

کراچی میں ناموسِ رسالت کے قانون کے دفاع میں نکالی جانے والی ریلی میں پاکستان کی بڑی مذہبی جماعتوں اور کالعدم تنظیموں کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی ہے۔

اتوار کو تحریکِ ناموسِ رسالت کے تحت نمائش چورنگی سے شروع ہونے والی اس ریلی کے شرکاء نے تبت سینٹر تک مارچ کیا۔

اس ریلی میں جماعتِ اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جمعیت علمائے پاکستان، کالعدم جماعت الدعوہ اور کالعدم سپاہِ صحابہ سمیت مذہبی جماعتوں کے کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔

ریلی میں نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی اور ریلی کے شرکاء نےگورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ہلاک کرنے والے ملک ممتاز قادری کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

کراچی سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس ریلی سے جماعتِ اسلامی کے امیر منور حسن، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، تحریکِ ناموسِ رسالت کے کنوینر صاحبزادہ زبیر اور کالعدم جماعت الدعوہ کے رہنما امیر حمزہ سمیت اہم مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

ان رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں کہا کہ ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم غیر ملکی ایجنڈا ہے اور اگر ناموسِ رسالت کے قانون پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ممتاز قادری جیسے کئی اور لوگ سامنے آئیں گے۔ ریلی کے شرکاء نے ممتاز قادری کی حمایت کا ہاتھ اٹھا کر اعلان بھی کیا۔

مقررین نے سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے قانون میں ترمیم کے مطالبے پر غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ ’امریکی پیسوں سے چلنے والی این جی اوز ہوشیار رہیں اور اپنی وصیت اور کفن سنبھال کر رکھیں، ان کا بھی یہی حال ہوگا‘۔

میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اگر ذرائع ابلاغ عوامی جذبات کو مدِنظر نہیں رکھیں گے اور انہیں میڈیا پر جگہ نہیں دی جائے گی تو میڈیا کو بھی عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑےگا۔

ریلی کے شرکاء نے امریکی صدر براک اوباما اور توہینِ رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کے پتلے بھی نذرِ آتش کیے۔ شرکاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر کو توہینِ رسالت کے ملزم کو معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم کا معاملہ اس وقت اٹھا تھا جب پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شیری رحمان نے ایوان میں نجی کارروائی کے دن ذاتی حیثیت میں ایک ترمیمی بل پیش کیا تھا جس میں ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو رکوانے کے لیے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

جہاں مذہبی جماعتیں اس قانون میں کسی بھی تبدیلی کی شدید مخالفت کر رہی ہیں وہیں پاکستانی سول سوسائٹی کی جانب سے اس کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے اس میں ترامیم کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔

اسی بارے میں