حکومت کا نواز لیگ کے ایجنڈے پر مثبت جواب

Image caption حکومت نواز لیگ کا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا ایک مطالبہ پہلے ہی مان چکی ہے

وزیراعظم پاکستان نے مسلم لیگ ن کی جانب سے حکومت کو دی جانے والی ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ہی ان کے اصلاحِ احوال کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے سلسلے میں مثبت جواب دے دیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے نواز شریف سے فون پر بات کی جس میں یہ معاملہ زیرِ بحث آیا۔

بیان کے مطابق ن لیگ کے ایجنڈے پر وزیراعظم نے میاں نواز شریف کے ایجنڈے پر مثبت ردعمل ظاہر کیا جبکہ نواز شریف نے وزیراعظم کی سیاسی بصیرت کو سراہا۔

نواز شریف نے چار جنوری کو حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اصلاحِ احوال کا مطالبہ کیا تھا تاہم بعد ازاں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد اس ڈیڈ لائن میں تین دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔

مسلم لیگ ن کی یہ ڈیڈ لائن پیر کی شام ختم ہو رہی تھی۔

ن لیگ کے رہنما پرویز رشید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وزیراعظم نے نواز شریف سے بات چیت میں اس یجنڈے پر عملددرآمد کرنے پر آمادگی ظاہر کی جو چار جنوری کو پیش کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بتایا کہ وہ ایک حکومتی کمیٹی بنائیں گے جو اس سلسلے میں نواز لیگ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

مسلم لیگ ن کے ایک اور رہنما احسن اقبال نے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی جماعت کو امید ہے کہ پینتالیس دن کی مدت میں حکومت نیک نیتی سے اس ایجنڈے پر عمل کرے گی اور پیشرفت دکھائےگی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جبکہ وزیراعظم کی جانب سے مثبت جواب سامنے آیا ہے تو حکومت کو دی جانے والی تین دن کی ڈیڈ لائن کوئی اہمیت باقی نہیں اور نہ ہی اب پیپلز پارٹی سے پنجاب حکومت سے علیحدہ ہونے کو کہا جائے گا۔

خیال رہے کہ چار جنوری کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے حکومت کے سامنے نو نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا اور مثبت جواب نہ ملنے کی صورت میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کو حکومت سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نواز شریف نے حکومت کو اس ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے پینتالیس دن کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ بیس فروری تک مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں نیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

Image caption نواز شریف نے کرپٹ وزراء کو نکالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے

ان مطالبات میں پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے کو واپس لینے کی بات بھی شامل تھی جس پر حکومت پہلے ہی عمل کر چکی ہے۔

اس کے علاوہ نواز شریف نے یہ بھی مطالبات کیے تھے کہ حکومت وزراء کی تعداد کم کرے، بدعنوان وفاقی وزراء کو فوری طور پر اُن کے عہدے سے ہٹائے اور اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی تنظیمِ نو بھی کی جائے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ این آر او سمیت تمام عدالتی فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور ایسا احتساب کمیشن بنایا جائے جو حکومتی دباؤ سے آزاد ہو۔ انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے احتساب اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور سابق وزیراعلی اکبر بُگٹی کے قتل کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف نےچینی سکینڈل کے مجرموں کے خلاف کاروائی کرنے کے علاوہ پنجاب بینک،پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی بھی بات کی تھی۔

انہوں نے دفاعی بجٹ میں شفافیت لانے، معاف کیے گئے قرضے واپس لینے اور بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں