آخری وقت اشاعت:  پير 10 جنوری 2011 ,‭ 08:29 GMT 13:29 PST

خیبر ایجنسی میں مذید دو سکول تباہ

خیبر ایجنسی میں تباہ شدہ سکول کی فائل فوٹو

دھماکے میں دو کمروں پر مشتمل دونوں سکولوں کو تباہ کردیا گیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سرکاری سکولوں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تازہ واقعات میں لڑکیوں کے دو مزید سکولوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی کے پولیٹکل انتظامیہ کےایک اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب لنڈی کوتل تحصیل کے علاقوں متا خیل اور مری خیل میں لڑکیوں کے دو پرائمری سکولوں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے دو دو کمروں پر مشتمل دونوں سکول مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ اہلکار کے مطابق ایک سکول رات تقریباً بارہ بجے نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرا سکول ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد رات ایک بجے تباہ کردیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ دونوں سکول تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ شدت پسندوں نے پہلے ایک سکول کو نشانہ بنایا اور پھر وہاں سے جاکر دوسرے سکول نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں پچھلے ایک سال سے سرکاری سکولوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے اور اس قسم کے واقعات میں درجنوں سکولوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ تباہ ہونے والے سکولوں میں اکثریت لڑکیوں کی بتائی جاتی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب گزشتہ چند دنوں سے لنڈی کوتل تحصیل میں مقامی انتظامیہ نے غیر قانونی طورپر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف کاروائی کا اغاز کیا ہے اور ان کے سو سے زائد مکانات کو مسمار کیا جاچکا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔