حکومت سے رابطے کے لیے چار رکنی کمیٹی

Image caption ’میں نے دس نکاتی ایجنڈہ پیش کرتے ہوئے الٹی میٹم کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے اپنے پیش کردہ ایجنڈے پر حکومت سے رابطے کے لیے چار رکنی ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس ٹیم کی سربراہی سینیٹر اسحاق ڈار کریں گے جبکہ اس ٹیم کے دیگر ارکان میں سردار مہتاب عباسی، پرویز رشید اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ شامل ہیں۔

اس سے قبل انہوں نے کہا کہ دس نکاتی ایجنڈہ قومی مفاد میں دیا اور اس میں ذاتی مفاد شامل نہیں ہے اور پاکستان کو مزید تجربات سے نہیں گزرانا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ’میں نے دس نکاتی ایجنڈہ پیش کرتے ہوئے الٹی میٹم کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ میری ڈکشنری میں لفظ الٹی میٹم نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جو تجاویز میں نے پیش کیں اس پر حکومت سے ہاں یا نہ کرنے کا کہا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان سے گورنر پنجاب کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

واضح رہے کہ چار جنوری کو اسلم آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا تھا کہ حکومت اپنے اتحادیوں کے زور پر نااہلی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزراء کی تعداد کم کی جائے اور بدعنوان وفاقی وزراء کو فوری طور پر اُن کے عہدے سے ہٹایا جائے اور اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی تنظیمِ نو بھی کی جائے۔

اُنہوں نے کہا تھا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات میں حالیہ اضافے کو واپس لیا جائے اور ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے تاکہ اگر پیٹرولیم کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بڑھتی بھی ہیں تو اس کا کم سے کم بوجھ عوام پر پڑے۔

اُن کا کہنا تھا کہ این آراو سمیت تمام عدالتی فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور ایسا احتساب کمیشن بنایا جائے جو حکومتی دباؤ سے آزاد ہو۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے سابق صدر پرویز مشرف کے احتساب اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور سابق وزیراعلی اکبر بُگٹی کے قتل کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

سابق وزیرِاعظم نواز شریف نےچینی سکینڈل کے مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ پنجاب بینک، پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا بھی مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں