گیس بحران: کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ

Image caption پاکستان میں ان دنوں قدرتی گیس کا شدید بحران ہے اور گھریلو صارفین بھی گیس کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے قدرتی گیس کے بحران کی وجہ سے صنعتوں کے لیے بارہ سے سولہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے ای ایس سی کے ترجمان اور مینجر سپیشل پراجیکٹس ذوالفقار علی نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی میں چار سو سے ساڑھے چار سو میگا واٹ بجلی گیس سے پیدا کی جاتی ہے اور گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے یہ پلانٹ اب بند پڑے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بن قاسم کے بجلی گھر کے چھ پلانٹ سے گیس یا تیل سے گیارہ سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اس کے دو پلانٹ سالانہ مرمت کی وجہ سے بند پڑے ہیں جبکہ دیگر چار کو تیل پر چلا کر بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔

ذوالفقار علی نے نامہ نگار آصف فاروقی کو بتایا کہ ’سابق اور موجودہ حکومت کی یہ غلطی رہی ہے کہ وہ قدرتی گیس کی تقسیم معاشی فوائد کو سامنے رکھنے کی بجائے مخصوص مفادات کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت سے ایک چوتھائی سے بھی کم گیس فراہم کی جا رہی ہے اور اس صورت میں منگل سے شہر کی صنعتوں کے لیے روزانہ بارہ سے سولہ گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر انجم نثار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بارہ سے سولہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے روزانہ تقریباً دس سے گیارہ ارب روپے کا نقصان ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کا بے روزگار ہونا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں اور اس صورت میں امن و امان کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

گیس کی کٹوتی پر قدرتی گیس کی فراہمی کے ادارے سوئی ناردرن کے جنرل مینجر ریحان نواز نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں میں سردی کی شدید لہر کی وجہ سے گھریلو سطح پر گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے سسٹم کو چلانا مشکل ہو گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سسٹم پر دباؤ کی وجہ سے خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں کمپریسر سیٹشین ہی بند نہ ہو جائیں اور اگر ایسا ہوتا تو گیس کی ترسیل کی لائنز خالی ہو جاتیں اور صورتحال کو دبارہ نارمل کرنے میں کئی روز لگ سکتے تھے۔

واضح رہے کہ اتوار کو صوبہ پنجاب میں قدرتی گیس فراہم کرنے والے ادارے سوئی نادرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے صوبے میں تمام صنعتوں اور سی این جی پمپس کو گیس کی فراہمی بند کر دی تھی۔

ریحان نواز کا کہنا ہے کہ منگل سے صورتحال میں بہتری آنے کا امکان ہے اور صنعتوں اور گھریلو صارفین کو ممعول کے مطابق گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔

اسی بارے میں