’گورنر کا قتل انفرادی فعل تھا‘، ملزم کا اعترافِ جرم

Image caption اس جرم میں کوئی اور ملوث نہیں ہے اور یہ جرم خود کیا ہے: ممتاز قادری

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں گرفتار ممتاز قادری نے اسلام آباد کے ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں اعترافِ جرم کر لیا ہے۔

دوسری جانب راولپنڈی میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو چودہ روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

’اللہ، رسول جانیں اور ملک ممتاز جانے‘

ممتاز قادری کو اتوار کے روز اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پر ان کا قانون کی دفعہ 164 کے تحت اقبالی بیان ریکارڈ کیا گیا۔

اعترافِ جرم کرتے ہوئے ممتاز قادری نے کہا کہ سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا فیصلہ تین روز قبل کرلیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ راولپنڈی کے علاقے صادق آباد میں ختم نبوت کے حوالے سے ایک جلسہ منعقد ہوا تھا جس میں ناموس رسالت قانون کے حوالے سے مختلف علماء نے تقاریر کیں جن میں سلمان تاثیر کی طرف سے اس قانون کو تبدیل کرنے کے حوالے سے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔جس کے بعد انہوں نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اس جرم میں کوئی اور ملوث نہیں ہے اور یہ جرم ان کا انفرادی فعل ہے۔

اس سے قبل ممتاز قادری سے تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ گورنر پنجاب کو ہلاک کرنے کا یہ عمل ممتاز قادری کا ذاتی فعل تھا۔

اس اعترافِ جرم کے بعد اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے پیر کو ملزم کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ملزم کو مزید اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی جس پر عدالت کے جج نے ممتاز قادری کو چوبیس جنوری تک جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے چھ تاریخ کو ممتاز قادری کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا جو منگل یعنی کل ختم ہونا تھا۔

ملزم کو جب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اُس وقت ملزم کے وکیل وحید انجم عدالت میں موجود نہیں تھے۔ تاہم اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کی بات اپنے مؤکل سے ہوئی ہے اور اُنہوں نے (ممتاز قادری) ایسا کوئی بھی اقبالی بیان کسی عدالت میں نہیں دیا۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل انسپکٹر حاکم خان نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ پولیس کی تفتیش ختم ہو گئی تھی اس لیے ممتاز قادری کو ایک روز قبل ہی عدالت میں پیش کردیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ قانون میں یہ گُنجائش موجود ہے کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران اگر تفتیش مکمل ہوجائے توملزم کو جیل بھجوانے کے لیے مقررہ تاریخ سے پہلے عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔

حاکم خان کا کہنا تھا کہ ملزم ممتاز قادری نے ناموس رسالت کے بارے میں تقاریر سُننے کے بعد یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ گورنر پنجاب جب کبھی بھی اُن کے سامنے آئے وہ اُنہیں نہیں چھوڑیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ ملزم نے راولپنڈی میں ایلیٹ فورس کے محرر سے کہا کہ اس کی ’ڈیوٹی راولپنڈی میں پنجاب ہاؤس میں لگانے کی بجائے اسلام آباد میں سلمان تاثیر کے گھر پر لگائی جائے‘۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ابھی تک تحقیقاتی ٹیم کو ایلیٹ فورس کے محرروں کے گورنر پنجاب کے قتل میں ملزم کی معاونت کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

سلمان تاثیر کے قتل کے متعلق جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اُس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے علاوہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ، 109 جو اعانت سے متعلق ہے، کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک کی تحقیقات میں کسی شخص کو بھی اس دفعہ کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایلیٹ فورس کے تیرہ سے زائد اہلکار ابھی تک اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے پاس ہیں۔

واضح رہے کہ ممتاز قادری کو سکیورٹی کے خدشات کے باعث گزشتہ جمعرات کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔

پوپ بینیڈکٹ

رومن لیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے کہا ہے کہ پاکستان ناموسِ رسالت قانون میں ترمیم کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت پاکستان میں اقلیتوں کو انصاف نہیں ملتا اور وہ تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے رواس سال کے شروع میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کا ذکر کیا جو ناموسِ رسالت قانون کے مخالف تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بہت کم ہوتا ہے کہ پوپ بینیڈکٹ کسی خاص ملک کا ذکر کریں۔

ویٹیکن میں سفارکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’میں ایک بار پھر حکومتِ پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ قانون میں تبدیلی کے لیے موثر اقدامت کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اس ضمن میں اقدام کیے جائیں۔

اسی بارے میں