’خاندان کا کوئی تعلق نہیں‘

’جو بھی عمل ہوتا ہے وہ اچھا ہے یا برا وہ میرے رب اور اس کے رسول کی نظر میں اگر اچھا ہے تب اچھا ہے۔ یہ تو اللہ اور اس کے رسول جانیں اور ملک ممتاز صاحب جانیں۔‘

یہ الفاظ ہیں دلپذیر اعوان کے جو پنچاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں گرفتار ملک ممتاز قادری کے بھائی ہیں۔

دلپذیر اعوان نے اپنے بھائی کے اقدام کے بارے میں کہا کہ ان کے خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بھائی نے اس بارے میں گھر میں کوئی بات کی۔

’یہ اس کا ذاتی فعل ہے، ذاتی عمل ہے۔ یہ اچھا ہے یا برا ہم فی الحال اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ ہم بعض اوقات ظاہری طور پر اچھا کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کہیں نہ کہیں کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ کہیں نہ کہیں لغزش ہوتی ہے، کہیں نہ کہیں زیادتی ہوجاتی ہے۔ اس لیے جو بھی عمل ہوتا ہے وہ اچھا ہے یا برا وہ میرے رب اور اس کے رسول کی نظر میں اگر اچھا ہے تب اچھا ہے۔ یہ تو اللہ اور اس کا رسول جانیں اور ملک ممتاز صاحب جانیں۔‘

لیکن دلپذیر کی گفتگو میں کچھ تضاد بھی نظر آیا اور انہوں نے اپنے بھائی کے فعل کا دفاع کرنے کی بھی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بھائی کے فعل پر صرف یہ کہیں گے کہ کوئی بھی مسلمان اپنے دین کو نشانہ بنانا برداشت نہیں کر سکتا ہے۔

پنچاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے محافظ پنچاب ایلیٹ فورس کے ملک ممتاز قادری نے چار جنوری کو اسلام آباد میں گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔

ممتاز قادری کے دس بہن بھائی ہیں اور وہ بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔

گورنر کے قتل کے بعد ملک ممتاز قادری کو گرفتار کرلیا گیا اور دلپذیر اعوان سمیت ان کے دیگر بھائیوں اور والد کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا لیکن بعد میں قادری کے والد اور ان کے بھائیوں کو رہا کر دیا گیا۔

لیکن ان کے ایک چچا زاد بھائی ملک نصیر جو پنچاب ایلیٹ فورس ہی میں ہیں اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔

دلپذیر اعوان کا کہنا ہے کہ ان کی حراست کے دوران پولیس کی تحقیقات اسی سوال کے گرد گھومتی رہی کہ آیا ان کے بھائی کا کسی مذہبی تنظیم سے کوئی تعلق رہا ہے۔

دلپذیر کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے خاندان کے کسی بھی فرد کا کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت سے کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کا دین کی طرف لگاؤ ہے، وہ نماز کے پابند ہیں اور دینی محفل میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں گرفتار ممتاز قادری کا گھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ان کا گھر راولپنڈی کے علاقے مسلم ٹاؤن میں ہے۔

سرکاری اہلکاروں اور صحافیوں کے علاوہ محلے دار، عزیز و اقارب، دوست اور مختلف طبقۂ فکر کے لوگوں کا ممتاز قادری کے گھر پر دن بھر تانتا بندھا رہتا ہے۔ کوئی حقائق جاننے، کوئی ہمدردی تو کوئی حمایت کا اظہار کرنے پہنچ رہا ہے۔

ان ہی لوگوں میں عاصم ستی بھی ہیں، جو پیشے کے لحاظ سے بزنس مین ہیں اور ان کا ممتاز قادری کے خاندان سے قریبی تعلق ہے۔

ستی نےگورنر کے قتل کے واقعہ پر کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے اور کوئی بھی مسلمان پیغمبرِ اسلام کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ ’قادری کی نیت کیا تھی، اللہ نے ان سے کام لینا تھا، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔‘

نجی کمپنی کے ملازم ممتاز قادری کے محلے دار محسن نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے لیکن پاکستان میں قانون کہاں ہے؟ گورنر کے بیان پر حکومت کو کوئی کارروائی کرنی چاہیے تھی جو نہیں کی گئی۔ یہ کس کا فرض تھا کہ ان سے پوچھتے کہ انہوں نے

(گورنر) قانون توڑا ہے؟‘

محلے کے ایک اور رہائشی محمد ریاض، جن کی تعلیم پرائمری ہے، کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں ناموس رسالت کے معاملے پر احتجاج ہو رہا تھا اور پڑھے لکھے لوگوں، دانشوروں اور حکومت کو پہلے ہی اس کا کوئی ازالہ کرنا چاہیے تھا۔ ’اگر بروقت کوئی اقدام کیا جاتا تو یہ واقع پیش نہ آتا۔‘

کالج کے طالب علم حمزہ طارق نے کہا کہ وہ قادری کے فعل کی حمایت کرتے ہیں اور کوئی بھی مسلمان پیغمرِ اسلام کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ ملک ممتاز قادری کے گھر کے باہر اور بھی ایسے افراد نظر آئے جو قادری کے خاندان والوں سے ممتاز قادری کے فعل کی کھل کر حمایت کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

اسی بارے میں