امام مسجد کو توہین رسالت میں عمر قید

Image caption ملزموں کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سزا کے خلاف اپیل کی تیاری شروع کردی ہے اور ایک دو روز میں یہ اپیل لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردی جائے گی۔

پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے توہین رسالت کے الزام میں ایک امام مسجد اور ان کے بیٹے کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

کرسچن ڈیموکریٹک الائنس کے صدر جوزف فرانسس کے بقول یہ پہلا موقع ہے کہ جب توہین رسالت کے مقدمے میں کسی ملزم کو سزائے موت کی جگہ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راؤ ایوب خان مارتھ نے یہ حکم مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے رہائشی امام مسجد محمد شفیع اور ان کے بیٹے اسلم کے خلاف درج مقدمہ پر فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔

وکیل صفائی کے مطابق تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت توہین رسالت کے مرتکب کو سزائے موت یا عمر قید کے علاوہ جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان کو جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید چھ ماہ قید بھگتنا پڑے گی۔

عدالت نے دونوں ملزموں کو مذہبی عقائد کی توہین کرنے کے الزام میں دس دس برس جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت پانچ ، پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ملزموں کو سنائی جانے والی سزاؤں پر عمل درآمد ایک ساتھ ہی شروع ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ملزمان نے اپنے خلاف مقدمہ کے دوران جو عرصہ جیل میں کاٹا ہے وہ ان کی سزا میں شامل ہوگا۔

دونوں باپ بیٹا اپنے مقدمے کے اندراج کے بعد سے جیل میں ہیں اور عدالت نے آٹھ ماہ میں اس مقدمے پر کارروائی مکمل کی ہے۔

وکیل صفائی عارف گورمانی نے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کو بتایا کہ محمد شفیع اور ان کے بیٹے اسلم کے خلاف اس سال اپریل میں توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقدمے کے اندراج کی درخواست پھول خان نامی شخص نے دی تھی۔ وکیل صفائی کے مطابق محمد شفیع اور ان کے بیٹے اسلم پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی کریانے کی دکان کے سامنے برآمدے میں لگا میلاد اور مصطفیْ کانفرنس کا پوسٹر پھاڑ دیا تھا جو بقول استغاثہ توہین رسالت ہے۔

پولیس نے مقدمے میں مذہبی عقائد کی توہین کرنے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی تھیں۔

ملزمان کے وکیل کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے شہادتوں کے دوران اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ محمد شیفع امام مسجد ہیں۔

وکیل صفائی عارف گورمانی کے بقول مدعی اور ملزم دو مختلف مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور فرقہ واریت کی وجہ سے یہ مقدمہ درج ہوا ۔وکیل کے مطابق مدعی کا تعلق بریلوی جبکہ ان کے موکلان دیو بند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

ملزموں کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سزا کے خلاف اپیل کی تیاری شروع کردی ہے اور ایک دو روز میں یہ اپیل لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردی جائے گی۔

ماہرین قانون کے تحت انسداد دہشت گردی کی عدالت کی سزا کے خلاف سات دنوں میں متعلقہ ہائی کورٹ کے روبرو اپیل دائر کی جاسکتی ہے جس پر ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بنچ سماعت کرے گا۔

اسی بارے میں