’وسیم احمد کو تحقیقات سے الگ کریں‘

Image caption وسیم احمد کے مطابق وہ حکومت سے پہلے ہی اس مقدمے سے علیحدگی کو کہہ چکے ہیں

سپریم کورٹ نے حکومت کو ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی تحقیقات سے الگ کرنےکی ہدایت کی ہے اور اس مقدمے کی آزادانہ تحقیقات کروانے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے وسیم احمد نے عدالت کو بتایا ہے کہ اُنہوں نے خود ہی حکومت کو درخواست دی ہے کہ اُنہیں اس مقدمے کی تحقیقات سے علیحدہ کر دیا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے منگل کو حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کی۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ برطرف کیے جانے والے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی اور سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل اور سابق سیکرٹری مذہبی امور آغا سرور کے پاکستان میں اکاؤنٹس کی تفصیلات نہیں مل سکی ہیں

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مقدمے کے ایک فریق اور برطرف کیے جانے والے وزیر اعظم سواتی نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے حامد سعید کاظمی اور اس سکینڈل کے ایک اور کردار زین سکھیرا کے درمیان ہونے والی گفتگو اور اس سکینڈل میں ملوث دیگر افراد کے بیرون ممالک بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیے ہیں۔

اُنہوں نے عدالت میں حج انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی سے متعلق مزید شواہد بھی عدالت میں پیش کیے اور تفتیش کرنے والی ٹیم کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایماندار افسران کہاں سے لائیں۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے وسیم احمد نے عدالت کو بتایاکہ وہ اس مقدمے کی تفتیش میں اپنی بہترین کوششیں کر رہے ہیں جس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا تھا کہ وہ سکینڈل میں ملوث افراد کو بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے اس مقدمے کو خراب کر رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو عدالت کسی کو نہیں چھوڑے گی۔

وسیم احمد نے عدالت میں وزیر داخلہ رحمان ملک کا بیان بھی جمع کروایا جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ اُنہوں نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے راو شکیل کا نام اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مشورے کے بعد اپنا صوابدیدی اختیار استعال کرتے ہوئے نکالا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق صوابدیدی اختیار تو سیکرٹری داخلہ کے پاس ہوتا ہے وزیر داخلہ کے پاس نہیں۔ عدالت نے ای سی ایل قانون سے لاعلمی پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سرزنش کی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وسیم احمد نے جو اس مقدمے کی تفتیش سے الگ ہونے سے متعلق حکومت کو درخواست دی ہے اُس پر تین روز کے اندر اندر عملدرآمد کرتے ہوئے اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

عدالت نے اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو فوری طور پر سعودی عرب بھیجنے کی ہدایت کی جہاں پر وہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر کے علاوہ دیگر افراد کے بیانات بھی قلمبند کریں گے۔

سیکرٹری مذہبی امور نے عدالت کو بتایا کہ چھبیس ہزار چھ سو حاجیوں کو سات سو ریال کی ادائیگی دو ہفتوں میں شروع کر دی جائے گی اور اس ضمن میں چھ بینکوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت بیس جنوری تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں