صحافی کی موت کی تحقیق کا مطالبہ

الیاس نذر احتجاج
Image caption صحافی الیاس نذر کی لاش تربت کے قریب سے ملی تھی

صحافیوں کےتحفظ کے لیے کام کرنےوالی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے نے پاکستان کی حکومت سے بلوچ صحافی الیاس نذر کےقتل کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

منگل کے روز نیویارک سےسی پی جے کے چیف رابطہ کار برائے ایشیا بوب ڈیٹزیٹ نےایک بیان میں کہا ہے کہ سی پی جے پاکستانی صحافتی تنظیموں کےاس مطالبےمیں اپنی آواز شامل کر رہی ہے کہ صحافی الیاس نذر کے قتل کی تحقیقات کرائی جائے۔

سی پی جے نے پاکستان میں صحافیوں کے تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کےحوالے سے بتایا ہے کہ صحافی الیاس نذر اٹھائيس دسمبر سےلاپتہ تھے اور ان کی لاش بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قمبر چاکر کی لاش کے ہمراہ پدرک کے علاقے سے ملی تھی۔ بی ایس او کے قمبر چاکر اٹھائيس نومبر کو تربت سے لاپتہ ہوئے تھے۔

تاہم سی پی جےکا کہنا ہے کہ بلوچی زبان کے جریدے سے منسلک صحافی الیاس نذر کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ان کی گمشدگي اور پھر قتل کی وجہ ان کی صحافت تھی یا کچھ اور۔

سی پی جے کے چیف رابطہ کار برائےایشیا بوب ڈیٹزیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان جہاں صحافیوں کے قتل کےذمہ داروں کو چھوٹ دیئےجانے کی ایک تاریخ ہے، وہاں سی پی جےامید کرتی ہے کہ بلوچ صحافی الیاس نذر کے قتل کی مکمل تحقیقات کرائی جائے اور قاتلوں کو پکڑا جائےگا۔

سی پی جے نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی الیاس نذر کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

سی پی جے کے مطابق دو ہزار دس کے دوران پاکستان ان ممالک میں چوٹی پر رہا جہاں صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں