کراچی یونیورسٹی سےتین گرفتار

Image caption پولیس نے کراچی یونیورسٹی میں دھماکہ کرنے کے الزام میں تین افراد کوگرفتار کیا ہے

کراچی یونیورسٹی میں بم دھماکے کے الزام میں پولیس نے تین طالب علموں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کا کہنا ہے کہ حفیظ اللہ عرف بلال، محمد عمر عرف چھوٹا اور سید فائز علی کو ماڑی پور کے علاقے سےگرفتار کیاگیا ہے۔

پولیس نےملزمان سےایک کلاشنکوف،ایک ریپیٹر اور دو ٹی ٹی پستول برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ملزمان کا تعلق مبینہ طور پر اسلامی جمعیت طلبا کے ناراض دھڑے سے بتایاگیا ہے۔پولیس کےمطابق یہ دھڑا پنجابی مجاہدین کے نام سے کام کرتا ہے۔

ڈی ایس پی علی رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھڑا دو ہزار سات میں قائم کیاگیا تھا جس میں ڈیڑھ سو کے قریب لڑکے شامل ہیں جنہیں مختلف جماعتوں سے لے کر شامل کیاگیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے قبائلی علاقوں سے عسکری تربیت حاصل کی اور کراچی میں مخالف فرقے اور سرکاری اہلکاروں کو ٹارگٹ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سٹال کے قریب ایک ہلکی نوعیت کے بم دھماکے میں چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری جانب ان نوجوانوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہفتے سے لاپتہ تھے۔سید فائز علی کے بھائی سعد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی آٹھ جنوری کو فجر کی نماز پڑھنےگئے تھےجب سے لاپتہ ہیں اور اس بارے میں نارتھ ناظم آباد تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کی گمشدگی کی خبریں مقامی میڈیا میں شائع ہوئی ہیں اور وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو درخواست بھی بھیج چکے ہیں۔

سعد علی نے بتایا کہ ان کے بھائی نے کراچی یونیورسٹی میں دو ہزار نو میں داخلہ لیا تھا مگر بعد میں فائز علی نے یونیورسٹی چھوڑی دی تھی۔