ممتاز قادری کا نفسیاتی خاکہ

Image caption ممتاز قادری کی ایک ایسی ویڈیو بھی انٹرنٹ پر دستیاب ہے جس میں وہ ہاتھ میں بندوق پکڑے نعت پڑھ رہا ہے

واقعہ تو چار جنوری، کوئی چار بجے ایک بھرے بازار میں پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کا ارادہ اس نے پانچ دن قبل ایک جلسے میں ایک مولانا کی اشتعال انگیز تقریر سن کر کیا۔ جب اس نے اعلیٰ سطح کے کئی رہنماؤں کو نشانہ بنانا چاہا تو آسان ہدف سلمان تاثیر ملا۔ نفیساتی ماہروں کا کہنا ہے کہ قصہ تو اس سے بھی پہلے کا ہے۔

چند سال پہلے، پنجاب کی ایلیٹ فورس کے ایک اہلکار کی اقوام متحدہ کے مشن کے ساتھ سکیورٹی ڈیوٹی لگی۔ مشن کے افراد کے لیے ٹیکسی روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن ٹیکسی والا رکا نہیں۔ جو بندوق اس مشن کے اراکین کے تحفظ کے لیے دی گئی تھی، مشتعل اہلکار نے اسے غصے میں چلا دیا۔

اس واقعہ میں خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا، نہ ہی کوئی ہلاک، لیکن اس محافظ کی ذہنیت واضح ہوگئی۔ انگریزی میں اس کو ’ٹریگر ہیپی‘ کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شخص جو بغیر سوچے سمجھے گولی چلا دے۔ یہ ٹریگر ہیپی اہلکار، سلمان تاثیر کے قتل میں ملوث ملک ممتاز قادری تھا۔

دنیا بھر میں مجرموں کی شخصیت اور نفسیات کا ایک نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ جرم پہلے سے طے شدہ تھا یا جذبات کی رو میں بہہ کر کیا گیا۔ جو مجرم منصوبے کے تحت جرم کرتے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غلط یا صحیح میں تفریق کر سکتے ہیں، وہ پاگل نہیں ہوتے اور انہیں اپنے فعل پر کوئی افسوس نہیں ہوتا۔

ممتاز قادری کا جرم تو عدالت میں ہی ثابت ہوگا، لیکن اس کے بارے میں گورنمنٹ کالج کے کلینکل نفسیات کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا: ’ایسے لوگوں کے لیے ان کا جذبہ یا ایمان، ان کی سب سے عالیٰ قدر ہے۔ اس لیے ان کو افسوس نہیں ہوتا اور وہ آخر وقت تک یہی کہیں گے کہ میں نے درست کیا‘۔

راولپنڈی کے رہائشی، میٹرک پاس، چھبیس سالہ ممتاز قادری کے بارے میں اس کے بھائی دل پزیر اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بھائی ’انتہائی شریف النفس، انتہائی باادب اور ملنسار تھا۔ وہ بہت نمازی تھا۔ ہم سب بھائیوں میں چھوٹا تھا لیکن ہم سب سے زیادہ دین دار تھا۔‘

لیکن گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سپیشل آپریشنز اسلام آباد بنیامین نے کچھ اور بتایا۔ ’یہ کہناغلط ہے کہ وہ مکمل طور پر مذہبی تھا۔ اس کے پروفائل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیا دار تھا، کبھی داڑھی منڈوا لیتا تھا تو کبھی بال لمبے رکھتا اور اس کے عشق بھی چلتے رہے ہیں‘۔

ممتاز قادری کی ایک ایسی ویڈیو بھی انٹرنٹ پر دستیاب ہے جس میں وہ ہاتھ میں بندوق پکڑے نعت پڑھ رہا ہے۔

بنیامین نے مزید کہا ’قادری توہینِ رسالت کے ملزمان کے ساتھ ڈیوٹی کرتا رہا ہے، ان کو کورٹ کچہری تک لاتا رہا ہے۔ اگر وہ واقعی اتنا پکا عاشقِ رسول تھا تو ان کو کیوں نہیں مارا؟‘

جب قادری نے سلمان تاثیر کے ساتھ اپنی ڈیوٹی لگوائی، تو بنیامین کے بقول ’اس کو ہیرو بننے کا چانس ملا۔‘

دوسری طرف دل پزیر کہتے ہیں کہ قادری محلے بھر کا کوڑا جمع کر کے مسیحی کوڑے والوں کو دیتا تھا۔ ’آپ ان کوڑے والوں سے پوچھیں، جو مسیحی ہیں، کہ گھر کا کوڑا کون سنبھالتا تھا۔ وہ اتنا باادب تھا۔‘

مگر بنیامین نے اس بات کی تصدیق کی کہ سپشل برانچ نے ممتاز قادری کو گیارہ دیگر اہلکاروں سمیت سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ ’ان سے ہم نے رپورٹ طلب کی ہے، اور اس بنا پر اس کو گورنر تاثیر کی ڈیوٹی پر نہیں لگانا چاہیے تھا۔‘

پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ جن لوگوں میں تشدد کا رحجان پایا جاتا ہے وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ ’ان کی بہت بڑی نشانی ان کا ماضی کا کردار ہوتا ہے جو ان کے مستقبل کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ایسے شخص کے ماضی میں کئی جگہ ایسا ہوا ہو کہ وہ بے قابو ہو گیا ہو تو یہ اس کی ذہنی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔‘

بنیامین کہتے ہیں ’اس کی جذباتی سی طبیت تھی۔ تو اگر بندوق اس کے ہاتھ میں ہو تو پھر اس طرح کا آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔‘

تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسے شخص کو وی آئی پی کے تحفظ کے لیے کیوں رکھا گیا۔

ایک پولیس افسر نے مجھے بتایا کے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نفسیاتی سکریننگ ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود میجر نڈال جیسی مثالیں ملتی ہیں۔ سال دو ہزار نو میں ایک امریکی مسلمان میجر نے فوجی اڈے میں گولیاں مار کر اٹھارہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ تو نفسیاتی سکریننگ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ایسے دوبارہ نہیں ہوگا۔

سلمان تاثیر کے کیس کے بارے میں ڈی آئی جی پولیس نے کہا: ’میری چھبیس سال کی نوکری میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے ورنہ پولیس کانسٹیبل تو بڑے تابع دار ہوتے ہیں۔‘

لیکن ایک سابق آئی جی پولیس اور کمانڈنٹ قومی پولیس اکیڈمی، چودھری یعقوب کہتے ہیں کہ معاشرے میں جو صورت حال ہے، پولیس اہلکاروں کی ’سکریننگ بہت ضروری ہے تاکہ مختلف نقطۂ نظر سے دیکھا جائے کہ ان کے کس قسم کے رحجانات ہیں۔‘

اسی بارے میں