سوات میں سرگرم طالبان کمانڈر ہلاک

طالبان کمانڈر ابن امین
Image caption ابن امین کے سر پر ایک کروڑ روپے کا سرکاری انعام تھا

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سوات میں سرگرم ابن امین نامی ایک اہم کمانڈر کی تقریباً ایک ماہ قبل امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ ابن امین کے سر پر حکومت پاکستان کی طرف سے ایک کروڑ روپے کا انعام مقرر تھا۔

تحریک طالبان کے مرکزی نائب امیر مولوی فقیر محمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ سوات طالبان کے یہ کمانڈر سترہ دسمبر کو خیبر ایجنسی میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

ابن امین کون تھے؟

ابن امن سوات میں عسکریت پسندوں کے ایک اہم کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔

سوات میں سنہ دو ہزار سات میں جب طالبان نے سکیورٹی فورسز کے خلاف کاروائیوں کی تو ابن امین تحصیل مٹہ میں سر گرم تھے۔ انہیں’ گورنر’ کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔

طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان وہ ’فقیر‘ اور پشتو لفظ ’مشر روور‘ یعنی بڑے بھائی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ ابن امین کا تعلق بنیادی طورپر سوات کے علاقے نمل سے ہے ۔ ان کی عمر سینتیس سے چالیس سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سوات طالبان میں ان کی اہمیت اس وجہ سے تھی کیونکہ وہ خودکش حملہ آواروں کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جات تھے اور ان کی تربیت میں ملوث تھے۔ مٹہ کے مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ابن امین نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی تھی بلکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ میٹرک تک پڑھے لکھے تھے۔

سوات میں طالبان تحریک سے قبل ابن امین افغانستان میں سرگرم دیگر عسکری اور کالعدم تنظیموں کے رکن تھے اور روس کے خلاف جنگ میں بھی حصہ لیتے رہے اور طالبان حکومت کے دوران بھی وہاں قیام کرتے رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ابن امین دو سال تک جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔ ان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ ان کے گروپ کے چند قریبی ساتھی سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر ہونے والے ایک حملے میں ملوث تھے۔

ابن امین سوات میں سخت گیر موقف کے حامل عسکریت پسند سمجھے جاتے تھے اور وہ امن معاہدوں کے بھی سخت مخالف رہے تھے۔ ابن امین سوات میں سکیورٹی فورسز اور کئی اہم سیاسی رہنماؤں اور خوانین پر حملوں میں بھی ملوث بتائے جاتے ہیں۔

سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شدت پسند کمانڈر نے عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما افضل خان لالہ کی گاڑی پر حملے کے علاوہ سابق ضلعی ناظم سوات جمال ناصر خان کے مکان اور حجرے کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔

سوات میں دو ہزار اٹھ میں امن معاہدے کے بعد طالبان نے تحصیل مٹہ کے علاقے میں ایس ایس جی کے تین کمانڈوز کو حراست میں لے لیا تھا اور بعد میں ان کی لاشیں ملی تھیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق تینوں اہلکار ابن امین کے جنگجووں کے ہاتھوںمارے گئے تھے۔

دو ہزار نو میں وادی سوات میں جب طالبان کی کارروائیاں تیز تر تھیں تو حکومت نے اکیس جنگجو کمانڈروں کی سروں کی قیمتیں مقرر کیں اور ان میں ابن امین کی سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی۔

سوات آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے تحصیل مٹہ میں ابن امین کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا جس میں ان کے بھائی ابن عقیل ہلاک ہوگئے تھے جبکہ بعد میں ان کے ایک اور بھائی بھی سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔

سوات میں جب طالبان کی مسلح کارروائیاں جاری تھیں تو منڈال ڈاگ اور گولیری کے مقامات پر تشدد کے دو واقعات ہوئے جس میں مقامی لوگوں کے مطابق ابن امین اور ان کے ساتھیوں نے درجنوں عام شہریوں کو دھوکے سے قتل کردیا تھا۔ تاہم سوات میں مئی دو ہزار نو میں ہونے والے آپریشن کے بعد ابن امین علاقہ چھوڑ کر روپوش ہوگئے تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سوات میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں طالبان کے کمانڈر یا تو روپوش ہوگئے تھے یا علاقہ چھوڑ گئے تھے اور اب ابن امین کی ہلاکت ان بھاگتے ہوئے ساتھیوں کےلیے ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں۔

قاری حسین :

تاہم طالبان کے ترجمان مولوی فقیر محمد نے ایک اور طالبان کمانڈر قاری حسین کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔ قاری حیسن کی وزیرستان میں امریکی حملے میں ہلاکت کی کئی مرتبہ خبر گردش کر چکی ہے۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا تو اس کے مستقبل میں انتہائی خطرناک نتائج برامد ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کو اپنی تحویل میں مبینہ طورپر ہلاک کر کے ان کی لاشیں بعد میں سڑک کے کنارے پھینک دیتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ انھیں کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ان کے پاس کئی ایسی سی ڈی پہنچی ہیں جن میں ان کے مطابق دیکھا جا سکتا پہ کہ ’سکیورٹی فورسز طالبان کو ہلاک کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کرتی ہے۔

۔

اسی بارے میں