منہاج برنا انتقال کرگئے

Image caption منہاج برنا نے انیس سو نواسی میں اس وقت صحافت چھوڑ دی جب بینظیر بھٹو نے انھیں لندن میں پریس منسٹر تعینات کیا۔ وہ اس عہدے پر نیو یارک اور سوئیڈن میں بھی رہے۔

پاکستان کے نامور صحافی اور ملکی سطح پر صحافیوں کی تنظیم ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ کے بانیوں میں شمار ہونے والے منہاج برنا جمعہ کی صبح اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

پاکستان میں بائیں بازو کے سیاستدان معراج محمد خان کے بڑے بھائی منہاج برنا کی عمر ان کے قریبی دوست عبدالحمید چھاپرا کے مطابق تراسی برس تھی۔

منہاج برنا ایک لیجنڈ تھے: زاہدہ حنا

منہاج برنا ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے قصبہ قائم گنج میں پیدا ہوئے اور کچھ عرصہ ممبئی میں تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے اور وہاں ایک ہفتہ وار میگزین میں بھی کام کیا۔

بعد میں جامعہ ملیہ سے گریجویشن کی اور ان کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آگیا۔ ان کے والد تو کوئٹہ میں رہائش پذیر ہوئے لیکن منہاج برنا کراچی آگئے۔

انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرزر کی سند لی اور انگریزی روزنامے پاکستان ٹائمز سے صحافت کا آغاز کیا۔ دوران ملازمت انہوں نے ڈھاکہ، لاہور اور کراچی میں خدمات سرانجام دیں۔

اسلام آباد میں نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق دو اگست سنہ انیس سو پچاس میں جب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نامی تنظیم قائم ہوئی تو وہ اس کے بنیادی رکن تھے۔ بعد میں وہ اس تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور صدر کے عہدوں پر بھی منتخب ہوئے۔

منہاج برنا کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں انیس سو بہتر میں برنا صاحب کی فرمائش پر ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار عالمی مزدوروں کے دن یکم مئی کو عام تعطیل کا اعلان کیا۔

انہوں نے بھٹو دور میں صحافیوں کے حقوق لیے قانون سازی میں بھی اہم کردار ادا کیا اور ’نیوز پیپرز ایمپلائیز کنڈیشن آف سروسز ایکٹ انیس سو تہتر‘ منظور کروایا۔

جب ضیاالحق نے پاکستان میں مارشل لا لگایا اور صحافت پر پابندیاں عائد کیں تو منہاج برنا نے پابندیوں کے خلاف بھرپور تحریک چلائی اور وہ پابند سلاسل بھی رہے۔ پاکستان میں اظہار رائے اور بالخصوص صحافت کی آزادی کے لیے منہاج برنا کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

منہاج برنا بائیں بازو کی سوچ اور ترقی پسند خیالات کے مالک تھے اور ابتدا میں وہ کمیونسٹ پارٹی سے بھی منسلک رہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ جب تقسیم ہوئی اور دائیں بازو کی سوچ کے حامل صحافیوں نے ’دستور‘ کے نام سے اپنا نیا گروہ بنایا تو ترقی پسند سوچ کے حامل صحافیوں کے گروپ کو ’پی ایف یو جے برنا‘ کہا جاتا رہا۔

لیکن صحافت سے منسلک ہونے کے بعد وہ ٹریڈ یونین سے وابستہ رہے اور اخباری صنعت میں کام کرنے والے غیر صحافتی کارکنوں کی تنظیم ’آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائیز کنفیڈریشن‘ یا ایپنیک کے بانی صدر تھے۔

انھوں نے انیس سو نواسی 1989 میں اس وقت صحافت چھوڑ دی جب انہیں بینظیر بھٹو نے اپنے پہلے دور حکومت میں لندن میں پریس منسٹر تعینات کیا۔ وہ اس عہدے پر نیو یارک اور سوئیڈن میں بھی رہے۔

منہاج برنا کی صرف ایک صاحبزادی ہیں اور انہوں نے اپنے آخری ایام راولپنڈی میں اپنی بیٹی کے ہاں ہی گزارے۔ مرحوم کی اہلیہ مریم نوے کی دہائی میں فوت ہوگئی تھیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ معذور بچوں کی خدمت کرتے گزارا۔