بینظیر کیس: ملزمان آٹھ روزہ ریمانڈ پر

بے نظیر بھٹو فائل فوٹو
Image caption عدالت نے مذکورہ دونوں پولیس افسران کو بائیس جنوری کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی خُرم شہزاد کو آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفیشی ٹیم کے حوالے کردیا ہے۔

ستائیس دسمبر سنہ دوہزار سات کو جب بینظیر بھٹو لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوئی تھیں تو اُس وقت سعود عزیز راولپنڈی کے سٹی پولیس افسراور خُرم شہزاد ایس پی راول ٹاؤن تھے۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی ٹیم نے جمعہ کے روز انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا وہ فیصلہ پیش کیا جس میں عدالتِ عالیہ نے اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کی طرف سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

اس سے پہلے ڈی آئی جی سعود عزیز اور خُرم شہزاد چھ روز تک تفتیشی ٹیم کی تحویل میں رہے۔ بعدازاں متعلقہ عدالت نے اُن کا مذید جمسانی ریمانڈ دینے کی بجائے اُنہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

سماعت کے دوران ملزان کو سخت حفاظتی پہرے میں اڈیالہ جیل سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی نے عدالت کو بتایا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ ایک سو نوکا اضافہ کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پولیس افسران سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو پر خودکش حملہ کرنے والوں کے معاون کار تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں خودکش حملہ آوروں کی اعانت کرنے والے پانچ افراد اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ اِن پولیس افسران سے پوچھ گچھ کے بعد ہی اس مقدمے کی تفتیش مکمل ہوسکتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اِن پولیس افسران نے ابھی تک وہ موبائل فونز تفتیشی ٹیم کے حوالے نہیں کیے جو وقوعہ کے روز اُن کے زیرِاستعمال تھے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اِن پولیس افسران سے تفتیش کےدوران اس بات کا پتہ چلانا جاناہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے پیچھے کون سے ہاتھ کارفرما تھے۔

اُنہوں نے عدالت میں سابق ایس ایس پی آپریشنز روالپنڈی یاسین فاروق کا وہ بیان بھی پیش کیا جو اُنہوں نے ایک مقامی مسجٹریٹ کی عدالت میں دیا جس میں یاسین فاروق کے بقول سعود عزیز نے بینظیر بھٹو کی سیکورٹی پر تعینات اے ایس پی اشفاق انور کوپینتیس پولیس اہلکاروں سمیت کرال چوک بھیجنے کا حکم دیا تھا جہاں پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے ایک انتخابی جلسے پر فائرنگ ہوئی تھی۔ اس واقعہ میں چار افراد ہلاک ہوئےتھے اور یہ وقوعہ اسلام آباد کی حدود میں پیش آیا تھا۔

سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو نو روز کے جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی ٹیم کے حوالے کیا جائے۔

ملزمان کے وکیل ملک رفیق نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقوعہ کوتین سال سے زائد کا عرصہ گُزر چکا ہے اور اس عرصے میں تفتیشی ٹیم نے ایسے کوئی بھی شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ اُن کے موکل بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تفتیشی ٹیم اُن کےموکلوں کو ہراساں کرکے اپنی مرضی کے بیان لینا چاہتی ہے۔

عدالت نے مذکورہ دونوں پولیس افسران کو آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی ٹیم کے حوالے کردیا اور اُنہیں بائیس جنوری کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

اسی بارے میں