توہینِ رسالت قانون: ساڑھے نو سو مقدمات

فائل فوٹو

پاکستان میں توہینِ رسالت کے قانون کے تحت مقدمات کا ریکارڈ رکھنے والے اداروں کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اِس قانون کے غلط استعمال نے نا صرف غیرمسلم اقلیتوں بلکہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے پر اس قدر سنگین الزامات عائد کرنا، جن میں سے بیشتر ابتدائی پولیس تحقیق ہی میں ثابت نہیں ہو سکے، ملک میں مختلف فرقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت کا پتہ دیتی ہے۔

توہینِ رسالت کے قانون پر تحقیق کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کے مطابق اِس قانون کے تحت اب تک ملک میں ساڑھے نو سو سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں سے بیشتر عیسائی، ہندو یا احمدی نہیں بلکہ مسلمان شہریوں کے خلاف ہیں۔

ساڑھے نو سو میں سے چار سو اسی مقدمات مسلمانوں کے خلاف اور ساڑھے تین سو کے قریب احمدی فرقے کے ارکان کے خلاف درج کیے گئے ہیں۔

عیسائیوں کے خلاف دائر کیے گئے مقدمات کی تعداد ایک سو بیس کے قریب جبکہ ہندو شہریوں کے خلاف صرف چودہ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس عرصے میں جتنے مقدمات درج ہوئے وہ اُن درخواستوں کا پانچواں حصہ بھی نہیں تھے جو اس طرح کے مقدمات درج کروانے کے لیے پولیس کے پاس دائر کی گئیں یعنی توہینِ مذہب اورتوہینِ رسالت کے قانون کے تحت دائر کی گئی چار ہزار درخواستیں پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد بالکل ہی بے بنیاد ہونے کی بنا پر مسترد کر دیں۔

یہ بات بھی ماہرین کے نزدیک قابل بحث ہے کہ جو مقدمات دائر ہوئے اُن میں سے کتنے حقائق کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ انیس سو چوراسی سے لے کر، جب توہینِ مذہب کا قانون پہلی بار پاکستان کے قانون کا حصہ بنا، ابھی تک کسی ایک ملزم کے خلاف بھی عدالتی عمل مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ یعنی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کسی ملزم کو توہینِ رسالت کے قانون کے تحت سزا نہیں دی ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق ایک غیر سرکاری ادارے میں توہینِ رسالت قانون پر تحقیق کرنے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اِس قانون کے معرضِ وجود میں آنے کے ابتدائی چند سالوں میں یہ قانون صرف احمدی فرقے کے ارکان کے خلاف استعمال کیا گیا جنہیں تازہ تازہ حلقہ اسلام سے خارج کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق نوے کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ مقدمات عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف درج کیے گئے۔

سنہ دو ہزار کے بعد پاکستان میں توہینِ رسالت و مذہب کے الزام کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں ایک نیا رجحان دیکھنے میں آیا۔ اور یہ رجحان پاکستانی معاشرے میں اُس دور میں پروان چڑھنے والے رویوں کی مکمل طور پر عکاسی کرتا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کے اعدا و شمار بتاتے ہیں کہ سنہ دو ہزار کے بعد سے اس قانون کے تحت سب سے زیادہ مقدمات مسلمانوں کے خلاف درج کیے گئے۔ جتنے مقدمات درج کیے گئے اس سے پانچ گنا زیادہ درخواستیں دائر کی گئیں جن میں سے بیشتر مسلمانوں کے ایک فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے مخالف فرقے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔

یہ وہی دور ہے جب پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے عروج حاصل کیا۔

اس رجحان کی تازہ ترین مثال ڈیرہ غازی خان کے اُن امام مسجد کی ہے جنہیں مخالف فرقے کے ایک اجتماع کا پوسڑ پھاڑنے پر اُن کے بیٹے کے ہمراہ چالیس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

اسی بارے میں