کراچی: حساس علاقوں میں آپریشن اور کرفیو کا فیصلہ

کراچی
Image caption حساس علاقوں میں نقل و حرکت کے لیے قومی شناختی کارڈ ساتھ رکھنا مشروط ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے دارالحکومت کراچی کے حساس علاقوں میں جزوی طور پر کرفیو نافذ کرنے اور آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت میں امن و امان کے حوالے سے بلائے گئے اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک بھی شریک تھے۔

دریں اثناء حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی نے شہر کے مخصوص علاقوں میں آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج سوات کی طرح پورے شہر میں آپریشن کرے۔

کراچی کی صورتحال پر وزیر اعلی سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی کی گفتگو

وزیراعلٰی ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق، حساس اور شورش زدہ علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی نفری میں اضافہ کیا جائے گا۔ ان علاقوں میں رات کے وقت موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کی جائے گی۔

کراچی میں فوج طلب کی جائے؟

کراچی معمول پر آ گیا!

اجلاس میں طے کیا گیا کہ ’حساس علاقوں اور ملزمان کے خلاف موثر کارروائی کے لیے ہیلی کاپٹر سے نگرانی کی جائے گی اور کارروائی کے لیے کمانڈوز کو ہیلی کاپٹروں سے متاثرہ علاقوں میں اتارا جائے گا۔‘

وفاقی وزیر رحمان ملک نے میڈیا کو بتایا کہ یہ تجربہ جنوبی افریقہ میں کامیاب ہوا ہے، جس میں ہیلی کاپٹروں سے مجرموں کی نگرانی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی تھی۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق حکومت اورنگی، سائیٹ، کورنگی اور گلستان جوہر کو حساس علاقوں میں شمار کرتی ہے، جو شہر کے گنجان آبادی والے علاقے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگز کے حالیہ اور گزشتہ واقعات اکثر ان ہی علاقوں میں پیش آئے ہیں۔

وفاقی وزیر رحمان ملک نے بتایا کہ ان حساس علاقوں میں نقل و حرکت کے لیے قومی شناختی کارڈ ساتھ رکھنا مشروط ہے ۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی بھی پولیس اور رینجرز کو معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حال ہی میں کچھ افراد غیر ممالک سے کراچی آئے تھے اور انہوں نے حالیہ ٹارگٹ کلنگز میں حصہ لیا اور بعد میں یا تو وہ روپوش ہوگئے یا باہر روانہ ہوگئے ہیں۔

اجلاس میں چوری شدہ موبائل فون استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بتایا گیا کہ یہ تصدیق ہوچکی ہے کہ دہشت گرد اور مجرم ان موبائل فونز کا استعمال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے موبائل فون کمپنیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داری نبھائیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ ٹارگٹ کلنگز میں مبینہ طور پر ملوث کچھ ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں، جنہوں نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ وہ کیسے اور کس کے کہنے پر کارروائی کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق وہ اسے ایک اہم کامیابی سمجھتے ہیں۔

دریں اثناء حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی نے شہر کے مخصوص علاقوں میں آپریشن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید کا کہنا ہے کہ سوات کی طرح فوج پورے شہر میں آپریشن کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’ کچھ علاقوں میں یہ کارروائی کریں گے اور کچھ کو بچائیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ بجائے جزوی کرفیو کے پورے شہر کو اسلحے سے پاک کیا جائے، سب لوگ یہاں امن چاہتے ہیں۔ امن کے لیے فوج یہاں آئے جائے اور مجرم کسی بھی جماعت کے ہوں ان کے خلاف کارروائی کرے۔‘

صوبائی حکومت کے مجوزہ اقدامات پر متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ابھی صورتحال واضح نہیں ہے۔

ُادھر متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن سید بادشاہ خان کی ہلاکت پختون ، بلوچ اور دیگر قوموں کو ایم کیوایم سے دور کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔

ایک اعلامیے کےمطابق نائن زیرو پر مختلف وفود سے بات کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ اب یہ عمل اختیار کیا جا رہا ہے کہ چن چن کر ایم کیوایم کے پختون اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو بیدردی سے فائرنگ کرکے قتل کیاجا رہا ہے ۔

اسی بارے میں