’شدت پسندی کے واقعات میں کمی‘

Image caption گزشتہ سال خودکش حملوں میں بائیس فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی: رپورٹ

پاکستان کے ایک تحقیقی ادارے کے مطابق ملک میں تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں سال دو ہزار نو کے مقابلے سال دو ہزار دس میں گیارہ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ اور پنجاب میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے جو ملک کے اندر شہری دہشت گردی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکسی اور قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں میں اہم دہشت گردوں کی ہلاکتیں سال سال دو ہزار دس میں ملک میں مجموعی طور پر تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال دو ہزار دس میں سال دو ہزار نو کے مقابلے میں خود کش حملوں میں بھی بائیس فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی۔

’سال دو ہزار نو میں ہونے والے ستاسی خود کش حملوں کی نسبت سال دو ہزار دس میں سڑسٹھ خودکش حملے وقوع پذیر ہوئے۔‘

رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقوں میں بھی سال دو ہزار دس کے دوران دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے لیکن قبائلی علاقوں میں اگرچہ ریاست کا انتظامی کنٹرول جزوی طور پر بحال ہوسکا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں سکیورٹی کی صورتحال بدستور غیریقینی ہے کیونکہ اپنے مضبوط ٹھکانے چھوڑنے پر مجبور ہونے والے دہشت گرد مسلسل دوسرے قبائلی علاقوں میں پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

نامہ نگار احمد رضا کے مطابق رپورٹ میں امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان میں سال دو ہزار نو کے مقابلے پچھلے سال ایک سو پینسٹھ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور قبائلی علاقے ان حملوں کی مسلسل زد میں رہے۔

رپورٹ کے مطابق’صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے شعبے میں بہتری کے باوجود پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا ہے اور اس کی وجہ وہاں کی کمزور سیاسی انتظامیہ کی غیرمتاثر کن کارکردگی ہے جسے خراب انتظام کار اور لوگوں کی سیاسی عمل میں موثر شمولیت کو یقینی بنانے میں بھی ناکامی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ ملک کو لاحق اہم سکیورٹی چیلنجز اب بھی حل طلب ہیں اور حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ایک جامع اور موثر حکمت عملی کا اب بھی انتظار ہے۔

Image caption سال دو ہزار دس میں ڈرون حملوں میں ایک سو پینسٹھ فیصد اضافہ ہوا: رپورٹ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تک دہشت گردی کے خلاف جامع اور موثر حکمت عملی تیار نہیں کی جائے گی حکومت کو قبائلی علاقوں میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے صرف فوجی حل پر انحصار کرنا ہوگا۔

’بڑھتے ہوئے لسانی و سیاسی اور فرقہ وارانہ برداشت اور کراچی میں عسکریت پسندوں کے اثر و رسوخ کے علاوہ جنوبی پنجاب میں بڑی حد تک نوجوان اور غریب آبادی کی تنہائی اور ان میں شدت پسندی کے فروغ کو روکنے میں ناکامی نے مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق ’فوج بنیادی طور پر مارو، کنٹرول حاصل کرو، تعمیر کرو اور کلیئر (صاف) کرو کی پالیسی پر انحصار کر رہی ہے لیکن اس حکمت عملی میں کنٹرول حاصل کرنے اور تعمیر نو کے کام لوگوں کی مدد اور شمولیت، وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان بہتر اشتراک اور مطلوبہ وسائل کی دستیابی کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی میں جرآت مندانہ کارروائیوں کے لیے سیاسی ارادے اور منصفانہ عملدرآمد کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فوج، سیاسی حکومت اور لوگوں کے درمیان بہتر تعاون اور اشتراک قائم نہ ہو۔

اسی بارے میں