ہنگو:ویگن میں دھماکہ، گیارہ افراد ہلاک

ہنگو دھماکہ
Image caption دھماکہ ہنگو سے کوہاٹ جانے والی سڑک پر پیش آیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ہنگو میں ایک ویگن میں دھماکہ ہوا ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں تاہم پولیس نےگیارہ افراد کی ہلاکت اور نو کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

اس سے پہلے پولیس نے ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ بتائی تھی۔اب پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے بکھرے ہوئے اعضاء کو اکھٹا کرنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد گیارہ بن رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں کے ٹکڑوں کو بوریوں میں ہنگو سول ہسپتال پہنچادیاگیا ہے جہاں ان کے رشتہ داروں نے نو لاشوں کی شناخت کرائی ہے اور دو لاشوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہوئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکہ پیر کی صبح آٹھ بج کر پچاس منٹ پر جوزرہ کے مقام پر ہنگو سے کوہاٹ جانے والی ایک مسافر گاڑی میں ہوا۔

اس واقعہ سے کچھ دیر بعد پولیس افسر اسلام الدین نے بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کو بتایا تھا کہ مسافر ویگن میں عورتوں اور بچوں سمیت اٹھارہ افراد سوار تھے جو سب اس دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ اب پولیس کا کہنا ہے کہ مُسافرگاڑی میں تقریباً گیارہ افراد ہی سوار تھے جن میں سے ایک بھی نہیں بچ سکا ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے جبکہ دھماکے کے وقت اس کے پیچھے آنے والی گاڑی بھی دھماکے کی شدت سے الٹ گئی اور اس میں سوار نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اہلکار کا یہ کہنا تھا کہ جس وقت دھماکہ ہوا تو گاڑی ایک سکیورٹی چیک پوسٹ سے چند سو گز کے فاصلے پر تھی۔

دھماکے کی نوعیت کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ہنگو پولیس نے دھماکے کے بعد بتایا کہ یہ دھماکہ گیس سلنڈر کے پھٹنے سے ہوا ہے لیکن بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ یہ دھماکہ بارودی مواد سے ہوا ہے۔

حکام کے مطابق بارودی مواد ویگن میں نصب تھا اور اس کے پھٹنے سے ویگن میں موجود گیس کا سلنڈر بھی پھٹ گیا۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارکنوں نے لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا۔

اسی بارے میں