فاروق لغاری کی نشست پر دلچسپ مقابلہ

Image caption اویس لغاری مسلم لیگ قاف کے امیدوار ہیں

سابق صدر سردار فاروق احمد لغاری کی وفات کی وجہ سےخالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

لغاری خاندان، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اس حلقے سے اہم فریق ہیں اور تینوں امیدواروں کے لیے نشست جیتنا بظاہر ان کی سیاسی انا کا مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی کوشش ہوگی کہ اگر ان کا امیدوار نہ بھی جیتے لیکن لغاری خاندان کا امیدوار اویس لغاری کسی طور پر بھی نہ جیت پائے تاکہ لغاری خاندان کو بینظیر بھٹو سے ’غداری’ پر انہیں سبق سکھا سکیں۔

سردار فاروق لغاری کی موت کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے اویس لغاری مسلم لیگ (ق) کی طرف سے امیدوار ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے جمیعت اہل حدیث کے مولانا عبدالکریم کو میدان میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ان کے ٹکٹ پر کراچی کے سٹی پولیس چیف فیاض خان لغاری کے بھائی شبیر احمد خان لغاری مقابلہ کریں۔

سنہ دو ہزار آٹھ کےعام انتخابات کےاگر نتائج کو دیکھیں تو فاروق لغاری جیت گئے تھے اور دوسرے نمبر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مولانا عبدالکریم تھے۔ دونوں امیدواروں کو ملنے والے ووٹ بہت زیادہ تھے اور پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حصے میں بہت کم ووٹ آئے تھے۔

پیپلز پارٹی کےمتوقع امیدوار شبیرخان لغاری اب کی بار انتخاب میں حصہ لینے سے گریزاں ہیں جس کی ایک اہم وجہ تویہ ہے کہ ان کے جیتنے کے امکانات کم ہیں اور دوسری وہ اپنے سردار کی وفات کے بعد اپنے خاندان کی آبائی نشست خاندان سے باہر جانے کے حق میں نہیں ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مولانا عبدالکریم مشرق وسطیٰ کے ممالک کی مالی امداد سے دینی مدارس چلاتے ہیں اور بہت زیادہ امیر آدمی ہیں۔ ان کے پاس سینکڑوں طلباء و طالبات کی ایک رضاکار فورس ہے جو دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتی ہے۔مولانا عبد الکریم ماضی میں کالعدم لشکر طیبہ کی مدد کرنے کےحوالے سے بھی مشہور ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنماء سردار ذوالفقار کھوسہ بعض سیاسی وجوہات کی وجہ سے مولانا عبدالکریم کو امیدوار نامزد کرنےکے حق میں نہیں ہیں۔

اگر پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار کھڑا نہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کےامیدوار کی حمایت کی تو ایسے میں اویس لغاری کی جیت کا امکان انتہائی معدوم ہو جائےگا۔لیکن اگر پیپلز پارٹی خاموش رہتی ہے اور سردار ذوالفقار کھوسہ اپنے امیدوار کی اندرون خانہ مخالفت کرتے ہیں تو پھر سخت مقابلہ ہو گا۔