ملک کو اسلحہ سے پاک کریں:ایم کیو ایم

فاروق ستار
Image caption فاروق ستار نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کی

حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی مؤمنٹ نے ملک کو اسلحے سے پاک کرنے کےلیے قومی اسمبلی میں ایک بل جمع کروا دیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنماء فاروق ستار نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ایم کیو ایم نے قومی اسیمبلی میں ایک ’ڈی ویپنائیزیشن آف پاکستان ایکٹ دو ہزار گیارہ ‘ جمع کروا دیا ہے اور پاکستان کو اسلحہ اور ہر قسم کے ہتھیار سے پاک کرنے کےلیے اور ملک میں پائیدار اور دیرپا بنیادوں پر امن قائم کرنے کےلیے عملی اقدام کیا ہے۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق فاروق ستار نے بتایا ’ہر خاص و عام جانتے ہیں کہ ملک میں آئے دن بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری، معصوم و بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور جرائم پیشہ عناصر کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے ایک عام پاکستانی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔‘

ان کے مطابق اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ امن و سلامتی اور سیکیورٹی کے چیلینجز اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ ملک کی بقاء اور سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

فاورق ستار نے بتایا کہ عام فرد کےلیے روزمرہ کے معمولات کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے بلکہ یہ تمام کارروائیاں حکومت کی عملداری کو بھی ایک کھلا چیلینج ہے اور یہ کارروائیاں پاکستان کی شناخت بنتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا، ’ہم سب جانتے ہیں کہ ان وارداتوں اور ایسے واقعات کی وجہ سے ملک کتنی تباہی اور بربادی سے دوچار ہو رہا ہے اور اس کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ پاکستان میں غیرقانونی اسلحہ کی بھرمار ہے۔

حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب یہ وقت آ گیا ہے کہ ملک میں غیرقانونی اسلحہ کی تیاری، غیرقانونی نقل و حمل اور ناجائز اسلحہ رکھنے اور استعمال کرنے پر مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ اس پر سختی سے عملدرآمد بھی کروایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مستقل تباہی اور بربادی سے بچانے کےلیے ایم کیو ایم جو قانونی مسودہ قومی اسیمبلی میں پیش کیا ہے اس کا ایوان میں جائزہ لیا جائے اور یہ مسودہ جلد سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے گا۔

فاروق ستار نے مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسودہ کا جائزہ لیں اور اس مسئلے پر ایم کیو ایم کا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت لائسنس شدہ اسلحہ رکھنے کے نظام میں ہونے والے امتیازی سلوک کو ختم کرے اور ان کی جماعت نے اس نظام کو بھی بتدریج ختم کرنےکی تجویز کی ہے۔