نواز شریف سندھ میں

نواز شریف
Image caption نواز شریف کے لیے سندھ میں سیاسی گنجائش موجود ہے لیکن کیا وہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی قیمت پنجاب میں چکا پائیں گے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پیر کو صوبہ سندھ کے شہر بدین پہنچے ہیں جہاں انہوں نے مرحوم قوم پرست رہنما فاضل راہو کی برسی کے سلسلے میں منعقد ایک جلسہ عام سے خطاب کیا ہے۔

میاں نواز شریف ویسے تو قومی سطح کے لیڈر ہیں لیکن ان کی جماعت پنجاب کے علاوہ دیگر تینوں صوبوں میں کمزور ہے۔ میاں صاحب نے باقی صوبوں میں اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے تاحال ایسی کوششیں بظاہر شروع نہیں کیں جس سے ان کی جماعت منظم اور مضبوط ہوسکے۔

اس بات کا برملا اظہار یا شکوہ صوبہ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ سید غوث علی شاہ گزشتہ مہینوں میں کئی بار کرتے رہے ہیں۔ جبکہ بلوچستان میں ان کے حامی سردار یعقوب ناصر بھی دبے دبے الفاظ میں یہی بات کہتے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں بانوے اور سینیٹ میں سات نشستوں والی مسلم لیگ (ن) کے پنجاب اسمبلی میں ایک سو اکہتر اور خیبر پختونخوا میں نو اراکین صوبائی اسمبلی ہیں۔ جبکہ قومی سطح کی اس جماعت کو سندھ اور بلوچستان صوبوں میں ایک بھی نشست حاصل نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کو سندھ میں مضبوط ہونے سے روکنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی غیر اعلانیہ طور پر متفق دکھائی دیتی ہیں اور انہیں ’کھل کر کھیلنے’ کی اجازت نہیں دے رہے۔

کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے بعض کارکنوں کو قتل کیا گیا اور پرویز مشرف کے دور میں متحدہ نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں ایسی کروا دی ہیں کہ مسلم لیگ )ن) کے لیے اکا دکا سیٹ جیتنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔

کراچی میں مسلم لیگ (ن) کو ایم کیو ایم نے غیر اعلانیہ طور پر ‘ٹف ٹائم’ دے رکھا ہے تو اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی نے اس کے سیاسی راستوں میں بظاہر نظر نہ آنے والی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ جس کی وجہ سے یقیناً میاں نواز شریف ناخوش ہیں اور انہوں نے فی الحال ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔

سندھ میں اب جو شخصیات مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں ان میں غوث علی شاہ، ممنون حسین، مخدوم شاہنواز، سلیم ضیاء، امداد چولیانی اور زین انصاری نمایاں ہیں اور ماسوائے غوث علی شاہ کے کوئی بھی اپنے حلقوں سے ایک بھی نشست جیتنے کی پوزیشن میں شاید نہ ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کی ماضی میں جو طاقت تھی وہ چند سیاسی اور وڈیرے خاندانوں پر مشتمل تھی۔

جس میں گھوٹکی کے مہر سردار ہوں یا شکارپور کے، لاڑکانہ کے انڑ ہوں یا کشمور کے مزاری، جیکب آباد کے سومرو یا پہنور ہوں یا سکھر، نوشہروفیروز اور نوابشاہ کے سید، ٹھٹہ کے شیرازی ہوں یا ٹنڈو اللہ یار کے مگسی، ہالہ کے مخدوم ہوں یا دادو کے جتوئی، نوابشاہ کے آرائیں ہوں یا سانگھڑ، میرپور خاص اور عمر کوٹ کے پنجابی آبادکار۔ یہ لوگ اصل میں اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیتے ہیں یا پھر حکمرانِ وقت کا چاہے وہ سیاسی حکومت ہو یا فوجی۔

جب سے میاں نواز شریف نے جمہور کی سیاست شروع کی ہے تو اسٹیبلشمنٹ والا پہلو تو اس سے منہا ہوگیا لیکن مرکز میں جب بھی انہوں نے حکومت بنائی یا ایسا تاثر قائم ہوا تو یہ سارے ’لوٹا خاندان‘ ان کے ساتھ ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے لیے تقریبا یہی صورتحال بلوچستان میں بھی ہے۔

میاں صاحب کے لیے دوسرا آپشن سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے ہاتھ ملانے کا ہے اور ماضی میں میاں صاحب کے ساتھ ان کا اچھا تجربہ نہیں رہا۔ کیونکہ انیس سو ستانوے میں جب دو تہائی اکثریت سے انہوں نے حکومت بنائی تو طاقت کی سرمستی میں اگلے ہی سال ایٹم بم کا دھماکہ کرنے کے بعد کالاباغ ڈیم بنانے کا اعلان کردیا۔

سندھ کے بیشتر سیاسی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ انیس سو ستانوے میں پہلی بار سندھ نے مسلم لیگ (ن) کے روپ میں پیپلز پارٹی کا نعم البدل پایا۔ لیکن سندھ کی عوام کا وہ بھروسہ انہوں نے کالاباغ ڈیم بنانے کا اعلان کر کے توڑ دیا تھا۔ اوپر سے انہوں نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھرتی کردہ پچیس سے تیس ہزار لوگوں کو بے روزگار کر دیا اور تھر کے کوئلے سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی بنانے کا منصوبہ ختم کردیا۔ جس سے سندھ میں ان کی حمایت ختم ہوگئی اور بہت سارے شک وشبہات پیدا ہوئے۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سندھ کے عوام لسانی تضادات کی وجہ سے ایم کیو ایم پر بھروسہ نہیں کرتے۔ پیپلز پارٹی کا دوسرا کوئی نعم البدل نہیں ہے، قوم پرست اپنے کردار سے انہیں مایوس کر چکے ہیں۔

اگر میاں نواز شریف کالا باغ ڈیم پر سندھ کی عوام سے کوئی عہد کر سکیں اور ماضی کی غلطیوں کی معافی اور ان کا ازالہ کرنے کا وعدہ کریں تو آج بھی ان کی جماعت کے لیے بہت سیاسی گنجائش ہے۔ لیکن ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی قیمت پنجاب میں چکا پائیں گے؟۔

اسی بارے میں