پی سی او حلف: ’جیسے گندے پانی سے وضو‘

پاکستان کی سپریم کورٹ
Image caption سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے وکیل ابراہیم ستی نے کہا کہ اُن کے مؤکل نے اُس وقت پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا جب سپریم کورٹ نے ظفر علی شاہ کیس میں پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے کو جائز قرار دیا تھا

سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کو توہین عدالت کے نوٹسز کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانا ایسے ہی ہے جیسے گندے پانی سے وضو کرنا۔

جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے منگل کو توہین عدالت کے نوٹسز کی سماعت شروع کی تو غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے وکیل ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ اگر جج صاحبان ایک دوسرے کو نوٹسز جاری کریں گے تو وہ دن دور نہیں جب یہ جج صاحبان ایک دوسرے کے خلاف گواہیاں بھی دیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ ججوں کے خلاف کارروائی کا طریقہ آئین میں موجود ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ یہ طریقہ کار اُن جج صاحبان کے لیے ہے جو حاضر سروس ہیں جبکہ اُن کے مؤکل ریٹائر ہوچکے ہیں۔

ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ اُن کے مؤکل عتاب میں ہیں اور اُن کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔جس پر بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے وکیل صفائی سے استفسار کیا کہ کیا وہ تین نومبر سسنہ دو ہزار سات کے بعد عتاب میں رہے ہیں جب فوجی آمر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا اور اُنہیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا تھا۔

ابراہیم ستی نے کہا کہ اُن کے مؤکل نے اُس وقت پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا جب سپریم کورٹ نے ظفر علی شاہ کیس میں پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے کو جائز قرار دیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کا کہنا تھا اکتیس جولائی سنہ دوہزار نو کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے حالات کے تناظر میں پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے کودرست تصور کیا جاتا تھا لیکن اس فیصلے میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کوئی بھی جج مستقبل میں پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھائے گا۔اُنہوں نے کہاکہ تین نومبر کے اقدام کے حق میں اُس وقت کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد بھی پاس کی تھی۔

عبدالحمید ڈوگر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے مؤکل نے صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے فوجی آمر نے یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر سنہ دوہزار سات تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ بینچ میں شامل جسٹس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ وہ اس کا کریڈٹ نہ لیں بلکہ تین نومبر کا جواقدام تھا اُس کو منطقی انجام تک پہنچانے کاطریقہ کار ہی یہی طے کیا گیا تھا۔

جسٹس خلجی عارف حسین نے وکیل صفائی سے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ اور انتظامیہ کی موجودگی میں آرمی چیف ملک میں ایمرجنسی لگا سکتا ہے اور کیا قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ابراہیم ستی نے کہا کہ وہ کل یعنی بدھ کے روز اس کا جواب دیں گے۔

اسی بارے میں