جب ٹھیلا الٹ گیا !

محمد ال بوعزیزی میں کچھ بھی تو خاص نہیں تھا۔سن چوراسی میں اس کا ایک عام سے قصبے سدی بوزید کے ایک معمولی سے گھرانے میں جنم ہوا۔وہ تو اچھا ہوا کہ سیکنڈری تک معیاری اور مفت تعلیم کی سہولت تھی۔ورنہ عزیزی شائد بچپن میں ہی سبزی کی ریڑھی لگا لیتا۔پھر کالج میں داخلہ ہوگیا اور اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کرلیا۔لیکن روزگار کہاں ؟ ۔اس جیسے لاکھوں نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے جوتیاں چٹخا رہے تھے۔

عزیزی نےسدی بوزید کے بازار میں سبزی کا ٹھیلہ لگا لیا۔ایک دن پولیس والا پہنچ گیا اور عزیزی سے ٹھیلے کا بلدیاتی پرمٹ طلب کیا۔ پرمٹ نہیں تھا۔تو تو میں میں کے دوران پولیس والے نے عزیزی کو تھپڑ ماردیا اور ٹھیلہ سبزیوں سمیت الٹ کر ضبط کرلیا۔عزیزی بلدیہ کے دفتر پہنچ کر اہلکاروں کے سامنے گڑگڑایا کہ اس کے گھر میں والدین سمیت آٹھ افراد ہیں۔ برائے کرم ٹھیلہ چھڑوانے میں مدد کیجئے اور پرمٹ بھی بنا دیجئے۔بلدیاتی اہلکاروں نے کنگلے عزیزی پر فقرے چست کرنے شروع کردئیے۔

عزیزی ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔اسےچاہئیے تھا کہ ٹھیلہ لگانے سے پہلے بلدیہ سے پرمٹ لیتا۔لیکن عزیزی آخر کیوں پرمٹ لیتا؟؟

کیا ملک پر تئیس برس سے مسلط صدر نے اقتدار پر قبضہ کرنے سے پہلے کسی سے پرمٹ لیا۔ صدر کی بیوی ہر ہفتے جنیوا ، میلان اور پیرس جا کر شاپنگ کرتی ہے ۔اسے کس نے سرکاری بوئنگ مفت استعمال کرنے کا پرمٹ دیا۔چلو وہ تو خاتونِ اول ہے۔مگر اس کے دس بھائیوں، ان بھائیوں کی اولادوں اور صدر کے دامادوں کے بارے میں وکی لیکس میں کیوں آیا کہ اگر کسی بھی ملکی یا غیرملکی کو اس ملک میں صنعت، زراعت ، ماہی گیری ، ٹیلی کمیونیکیشن، میڈیا ، بنکاری، امپورٹ ، ایکسپورٹ غرض کوئی بھی کاروبار کرنا ہے تو صدر کی پہلی یا دوسری بیوی کے اہلِ خانہ میں سے کسی نہ کسی کو ضرور حصے دار بنانا پڑے گا۔

اور خاتونِ اول کے دو بھانجوں نے ایک فرانسیسی سرمایہ کار کی لگژری کشتی کس پرمٹ کے تحت ہتھیا لی۔اگر پرمٹ تھا تو انٹرپول نے دونوں کے وارنٹ کیوں نکال دئیے۔سرکاری بینکوں سے کروڑوں ڈالر کے قرضے صدر کے حواریوں نے کس پرمٹ کے تحت ہضم کرلئے۔تو کیا صدر نے پانچ ارب ڈالر کے اثاثے پرمٹ لے کر بنائے ہیں۔

اور اگر یہ اتنے ہی دودھ کے دھلے ہیں تو اخبارات صرف سرکاری خبررساں ایجنسی کی خبریں ہی کیوں چھاپ سکتے ہیں۔صدارتی انتخابات کے دوران غیر ملکی مبصروں کو آنے سے کیوں روکا جاتا ہے۔انٹرنیٹ کی ہر ویب سائٹ فلٹر کیوں ہوتی ہے۔

عزیزی کے سامنے دو ہی راستے تھے۔یا تو کمپیوٹر سائنس کی ڈگری ہاتھ میں لئے بے روزگاری برداشت کرتا رہتا اور کسی اوپر والے کو نہ جاننے کی سزا بھگتتا رہتا۔یا ہزاروں مایوس نوجوانوں کی طرح کسی سمگلنگ ایجنٹ کی کشتی میں چھپ کر سمندر پار فرانس ،اٹلی یا یونان کے ساحل پر اترجاتا۔مگر وہ تو یہیں رہنا چاہتا تھا۔ چاہے سبزی ہی بیچنی پڑے۔لیکن یہ کیسا ملک ہے جہاں غبن تو جائز ہے پر ٹھیلہ لگانا ناجائز۔

محمد ال بو عزیزی کی سمجھ میں بس ایک ہی بات آئی۔اس نے فیس بک پر اپنی ماں کے لیے الوداعی پیغام چھوڑا اور سترہ دسمبر کو بلدیہ کے دفتر کے سامنے تیل چھڑک کر آگ لگا لی۔مگر شعلےعزیزی کے جسم تک نہیں رکے۔ پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔ہر عمر اور جنس کے لاکھوں عزیزی سینوں میں دفن برسوں کی آگ اٹھائےسڑکوں پر آگئے۔

صدرِ مملکت خود چل کر عزیزی ٹھیلے والے کی عیادت کے لئے ہسپتال گئے۔اس کے بعد جنابِ صدر پبلک میں نظر نہیں آئے۔ایک دن بس یہ خبر آئی کہ وہ اپنی اہلیہ اور ڈیڑھ ٹن سونے سمیت جدہ میں اترچکے ہیں۔

محمد ال بو عزیزی اس حکومت کا ٹھیلہ الٹتا نہ دیکھ پایا جس نے اس کا ٹھیلہ الٹا تھا۔ وہ دس روز پہلے ہی چارجنوری کو ہسپتال میں مرگیا۔

البتہ پسماندگان میں ایک کروڑ پانچ لاکھ آزاد تیونسی چھوڑے۔

اسی بارے میں