سندھ: 22 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار

اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں اوسطاً 22 فیصد بچے انتہا درجے کی غذائی کمی کا شکار ہیں۔

یونیسف اور دیگر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں نے حکومتِ سندھ کی وزارت صحت کے تعاون سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گزشتہ سال دسمبر میں یہ جائزہ مکمل کیا۔

تفصیلی رپورٹ حکومت سندھ اور یونیسیف جمعہ کے روز (کل) منظرِآم پر لائےگی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں جلد بحالی کے منصوبے کےلیے اسے مزید امداد کی ضرورت ہے اور صرف تریسٹھ فیصد متاثرین کو ہنگامی بنیادوں پر پناہ کےلیے امداد دی گئی ہے۔

یونیسف کی ترجمان کرسٹین ایلزبی کے مطابق پاکستان میں غذائی کمی کے حوالے سے کوئی بھی سروے آخری بار سنہ دو ہزار دو میں ہوا تھا۔

یونیسف کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں غذائی قلت کی صورتحال انتہائی درجے کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی سندھ میں غذائی قلت چھ اعشاریہ ایک فیصد ہے جبکہ جنوبی سندھ میں یہ شرح دو اعشاریہ نو فیصد ہے۔

یونیسف کے مطابق شمالی سندھ میں درمیانے درجے کی انتہائی غذائی قلت کی شرح سترہ فیصد ہے جبکہ جنوبی سندھ میں یہ شرح اٹھارہ فیصد سے زائد ہے۔

ہماری نامہ نگار عنبر شمسی سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کی امدادی تنظیم سیو دی چلرن کے غذا کے ماہر ڈاکٹر فہد نے کہا ’شمالی سندھ میں غذا کی کمی کی شرح تئیس اعشاریہ ایک فیصد ہے اور جنوبی سندھ میں اکیس اعشاریہ دو فیصد ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی میعار کے مطابق سیلاب جیسے ہنگامی حالات میں دس فیصد بھی بہت خطرناک شرح ہوتی ہے جبکہ سندھ میں اس سے کہیں زیادہ خطرناک صورتحال ہے۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر اوچا کے مطابق ملک بھر میں اسّی ہزار سے زائد انتہائی اور درمیانے درجہ کے غذائی کمی کے شکار بچوں کو خصوصی اعلاج کے مراکز میں داخل کرایا گیا ہے۔

لیکن جنوبی سندھ میں سیلاب زدگان کی مسلسل نقل مکانی کی وجہ سے بچوں کے لیے شروع کیے گئے علاج معالجے اور نشوو نما کے پروگراموں میں کامیابی کی شرح بہت کم ہے۔

ڈاکٹر فہد کا کہنا ہے ’مالی امداد فراہم کرنے والی تنظیمیں اس رپورٹ کا انتظار کر رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے دوران غذا کے پروگراموں کو بہت کم رقم ملی تھی۔ اب وہ اس شعبے کو ترجیح دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ مالی امداد بہت اہم ہے کیونکہ امدادی تنظیموں کی فنڈنگ فروری کے آخر میں ختم ہو جائے گی۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غذائی قلت ایک ایسا مرض ہے جو دوسری نسل تک کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت سیلاب کے متاثرین کی اگلی نسل کو اس پیچیدہ مرض کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سنجیدگی سے کام کرے گی۔

دوسری جانب پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کی مدد کےلیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی رئوف اینگن سوئیسل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سیلاب متاثرین اب بھی کئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے صرف تریسٹھ فیصد متاثرین کو ہنگامی بنیادوں پر پناہ کےلیے امداد دی گئی ہے۔

’میں نے پچھلے دنوں سندھ کے پانچ سیلاب زدہ اضلاع کا دورہ کیا اور وہاں ابھی بھی صورتحال خراب اور متاثرین کو طرح طرح کی ضرورتیں ہیں۔ ہمیں صرف متاثرین کی امداد پر توجہ نہیں دینی ہوگی بلکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی بھی بڑا چیلینج ہے۔‘

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق رئوف اینگن نے بتایا کہ پاکستان میں آنے والے بدترین سیلاب کو چھ ماہ ہونے والے ہیں لیکن سندھ صوبے کے کچھ علاقوں میں ابھی بھی پانی موجود ہے اور اکثر متاثرین اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں لیکن کچھ ایسے ہیں جو کیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے متاثرہ علاقوں میں جہاں سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہاں اس بار ربیع کی فصل نہیں ہوئی ہے اور اس لیے علاقے کے لوگ مزید مشکلات کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں