شہریوں کی ہلاکت کےامریکی ملزم کی عدالت میں پیشی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واقعے کے بعد شہریوں نے احتجاج کیا

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فائرنگ کر کے دو شہریوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار امریکی قونصلیٹ کے اہلکار کو جمعہ کو ایک مقامی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

دریں اثناء امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے شہر لاہور میں تین پاکستانی شہریوں کی موت کا سبب بننے والے امریکی قونصلیٹ کے اہلکار سے تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔

جمعرات کو ایک گاڑی میں سوار امریکی قونصلیٹ کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوار دو پاکستانی شہری ہلاک اور مبینہ طور پر امریکی اہلکار کے ساتھیوں نے جو ایک دوسری گاڑی میں سوار تھے، قرطبہ چوک کے نزدیک ایک موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا۔

جمعرات کوامریکی شہری کے خلاف زیر دفعہ تین سو دو کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا اور آج جمعہ کو ان کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکی شہری کے مبینہ طور پر نامعلوم ساتھیوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

جمعرات کو واشنگٹن میں معمول کی بریفنگ کے دوران جب امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلے سے لاہور کے واقعے کے بارے میں صحافیوں کی جانب سے سوالات کی بوچھاڑ ہوئی تو انہوں نے بیشتر سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا، البتہ یہ تصدیق کی کہ واقعے میں ملوث امریکی شہری، امریکی قونصل خانے کا فوجی نہیں، سِول اہلکار تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے چند حلقوں میں اس اہلکار کا جو نام لیا جا رہا ہے وہ درست نہیں کیونکہ امریکی حکام نے تاحال اہلکار کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکی قونصل خانے کے اہلکار، عام سی گاڑی میں لاہور کی سڑکوں پر کیوں گھوم پھر رہے تھے اور ان کے پاس پستول کیوں تھا جس سے انہوں نے دو مبینہ حملہ آوروں پر فائرنگ کی، تو پی جے کراؤلے نے جواب دیا کہ وہ فی الوقت ان سوالات کے جواب نہیں دے سکتے تاہم امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ قونصل خانے کے اہلکار پاکستان میں ہی ہیں اور پاکستانی حکام ان سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ لاہور کےعلاقے مزنگ میں امریکی قونصلیٹ کے ایک ملازم کی فائرنگ سے دو شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

واقعے کے بعد پولیس نے امریکی باشندے کو حراست میں لیا اور اس کی گاڑی بھی حکومت کی تحویل میں ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق واقعہ جمعرات کی سہ پہر پیش آیا جب لاہور کے ایک گنجان علاقے مزنگ میں کار سوار امریکی سفارت نے فائرنگ کرکے دو موٹرسائیکل سواروں کو گرا دیا اور تیز رفتاری سے گاڑی بھگانے کی کوشش کی۔

اسی دوران مبینہ طور پر امریکی سفارت کار کی مدد کے لیے آنے والے نامعلوم افراد کی گاڑی کی ٹکر سے ایک موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق تینوں کو سروسز ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

کیپٹل سٹی پولیس چیف اسلم ترین نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی باشندے کو حراست میں لےگیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ امریکی باشندہ امریکی قونصلیٹ کا ہی ملازم ہے اور سکیورٹی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں نوجوانوں کے قبضے سے پستول برآمد ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق امریکی باشندے ریمنڈ ڈیوس نے پولیس کو جو بیان قلمبند کرایا ہے اس کے مطابق دونوں موٹرسائیکل سواروں نے اس سےگن پوائنٹ پر کار چھیننے کی کوشش کی تھی اور اس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی ہے۔

فائرنگ کے واقعہ کے بعد پرانی انارکلی کے نزدیکی علاقے میں لوگوں نے امریکی باشندوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کردی۔

پولیس کے مطابق ابھی تک ہلاک ہونے والے ایک نوجوان عبیدالرحمان کی شناخت ہوسکی ہے جو شاہ عالمی بازار کا رہائشی ہے۔