تاثیر: ’ایم کیو ایم کا بھی فاتحہ سے انکار‘

فائل فوٹو، سلمان تاثیر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چار جنوری کو اسلام آباد میں گورنر سلمان تاثیر کو ان کے محافظ نے قتل کر دیا تھا

پاکستان میں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جمعہ کو جمیعت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ نے پنجاب کے مقبول گورنر سلمان تاثیر کے لیے فاتحہ پڑھنے سے انکار کردیا۔

مسلم لیگ (ق) کی سینیٹر نیلو فر بختیار نے کہا کہ ایوان کو سلمان تاثیر کے قاتل پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے والوں کی مذمت کی قرارداد منظور کرنی چاہیے۔ جس پر ان کی اپنی جماعت کے سرکردہ رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب مخالف وسیم سجاد نے مخالفت کردی اور کہا کہ معاملے کو فاتحہ تک رکھیں۔

چیئرمین سینیٹ فاروق نائک نے متحدہ قومی موومنٹ کے عبدالخالق پیرزادہ سے کہا کہ وہ سلمان تاثیر کے لیے فاتحہ پڑھائیں تو انہوں نے انکار کردیا۔

روشن خیالوں کے لیے شٹ ًاپ کال

جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم نے بھی فاتحہ سے انکار کیا جب کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا گل نصیب اور غلام علی فاتحہ کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔

بعد میں نیلو فر بختیار اور چیئرمین سینیٹ نے فاتحہ کے لیے جب ہاتھ اٹھائے تو اس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کے نمائندوں نے فاتحہ پڑھی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی شخص کے لیے فاتحہ پڑھنے کے معاملے پر ایوان تقسیم ہوگیا ہو۔ سب سے زیادہ حیرانی کی بات بظاہر سیکولر سمجھی جانے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے فاتحہ نہ پڑھنا ہے۔حالانکہ پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں کچھ عرصہ پہلے جب سلمان تاثیر کے لیے فاتحہ پڑھی گئی تھی تو اس میں تمام جماعتوں نے حصہ لیا تھا اور کسی نے مخالفت نہیں کی تھی۔

اس واقعہ کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حیدر عباس رضوی نے رابطہ کرنے پر کہا کہ سلمان تاثیر کی فاتحہ نہ پڑھنے کا عبدالخالق پیرزادہ کا ذاتی فیصلہ ہے جو ایم کیو ایم کی پالیسی کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم وہ واحد جماعت ہے جس کے متعدد اراکین پارلیمان نے سلمان تاثیر کے جنازے میں شرکت کی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رابطہ کمیٹی نے عبدالخالق پیرزادہ کے ذاتی عمل کا نوٹس لیا ہے اور وہ اس بارے میں مشاورت سے ضروری فیصلہ کرے گی۔

سلمان تاثیر کو چار جنوری کو ان کے اپنے پولیس محافظ نےگولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ ملزم ممتاز قادری نے بعد میں پولیس کو ایک بیان میں کہا تھا کہ سلمان تاثیر نے ناموس رسالت کے قانون کو سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا بیان دیا تھا جس سے ان کے جذبات مجروح ہوئے۔

سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو جب بعد میں پولیس نے عدالت میں پیش کیا تو کئی وکلاء اور شباب اسلامی نامی تنظم کے کارکنوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے ان کے حق میں نعرے لگائے تھے۔

گورنر تاثیر کے قاتل نے پولیس کو دیے گئے بیان میں قتل کا اعتراف کیا ہے اور اِن دنوں ُان کے خلاف اڈیالہ جیل میں مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنما سلمان تاثیر کے قتل اور اس کی حمایت کرنے والوں کی مذمت کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملات پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئے عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی کی بدترین مثال ہے۔

اسی بارے میں