شہریوں کی ہلاکت، امریکی اہلکار کا چھ روزہ جسمانی ریمانڈ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ریمنڈ کو عدالت میں پیش کیا گیا

لاہور میں فائرنگ کر کے دو شہریوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار امریکی قونصلیٹ کے اہلکار کو مقامی عدالت نے چھ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

امریکی قونصلیٹ کے اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کے ورثا نے لاہور میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

پولیس تفیتش کے مطابق امریکی باشندہ وزٹ ویزے پر پاکستان آیا تھا۔

امریکی ملزم کی عدالت میں پیشی

’امریکی سفارت کار‘ پر ناروا سلوک کا الزام

امریکی باشندے ریمنڈ ڈیوس کو پولیس کی کڑی حفاظت میں مقامی عدالت پیش کیا گیا۔ملزم نے موقف اختیار کیا کہ اس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی تھی اور وہ مقتولین کے ورثا سے معافی مانگیں گے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رانا بختیار نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے آٹھ دن کے ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم مجسٹریٹ ظفر اقبال نے چھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔

واضح رہے کہ معمول کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کو ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش کیا جانا تھا تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انھیں کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا۔اس سے پہلے صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ قتل کا ایک مقدمہ ملزم ریمنڈ ڈیوس اور دوسرا مقدمہ اس نامعلوم گاڑی سوار کے خلاف کیا گیا جس نے ایک نوجوان کو کچلا تھا۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہاکہ پنجاب حکومت امریکی باشندے کے خلاف ملکی قانون کے تحت مقدمہ چلائے گی۔

ہلاک ہونے والے نوجوانوں کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا فائرنگ سے ہلاک ہونےوالے دونوں نوجوان نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

مقتول فیضان کے بھائی عمران حیدرنے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ایک بھائی قتل ہوچکا ہے اور فیضان اسی مقدمے میں پیشی کے بعد اپنے دوست کے ساتھ کھانا کھانے جارہا تھا جب اسےگولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ان کے بقول مخالفین کے خطرے کی وجہ سے فیضان اپنے ساتھ لائسنس والا پستول رکھتا تھا۔

صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان کاکہنا تھا کہ امریکی باشندے نے قواعد کے مطابق اپنی نقل وحرکت کی اطلاع نہیں کی تھی اور بظاہر وہ کسی نجی کام سے آیا تھا۔

پولیس حکام کاکہنا ہے کہ ملزم ریمنڈ ڈیوس کا یہی موقف ہے کہ اس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی تھی اور اسے لگا تھا کہ موٹرسائیکل سوار نوجوان اسے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

کیپٹل سٹی پولیس آفیسر کی سربراہی میں اعلی سطحی پولیس ٹیم اس مقدمہ کی تفتیش کررہی ہے۔گاڑی کے نیچے آکر کچلے جانے والے نوجوان عباد الحق کے ایک رشتہ دار نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مقدمہ کا اوپن ٹرائل کیا جائے۔

امریکی باشندے کی ہلاکت کے خلاف لاہور کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں،سب سے بڑا مظاہرہ ایک مقتول فہیم کے ورثا نے کیا ہے انہوں نے جنازہ سڑک پر رکھا اور ٹائر جلاکر جی ٹی روڈ پر کئی گھنٹے تک ٹریفک بلا ک کیے رکھی۔

پیشی کے بعد ملزم ریمنڈ ڈیوس نے کہا ’انھوں نے شہریوں کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا، اور ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے اُن کی سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے۔‘

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ملزم ریمنڈ ڈیوس سے تفتیش مکمل کر کے چودہ دن کے اندر چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’امریکی قونصلیٹ سے کہا گیا ہے کہ دوسری گاڑی جس نے موٹر سائیکل سوار کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا کو ڈرائیور سمیت حکومت کے حوالے کیا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ملزمان کے خلاف کارروائی پاکستانی قانون کے مطابق کی جائے گی اور اس ضمن میں کوئی ملکی یا بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ملزم کے پاس سے جو اسلحہ برآمد ہوا ہے اس کا لائسنس نہیں تھا اور اس کا الگ سے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق امریکی باشندے ریمنڈ ڈیوس نے پولیس کو جو بیان قلمبند کرایا ہے اس کے مطابق دونوں موٹرسائیکل سواروں نے اس سےگن پوائنٹ پر کار چھیننے کی کوشش کی تھی اور اس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو ایک گاڑی میں سوار امریکی قونصلیٹ کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوار دو پاکستانی شہری ہلاک اور مبینہ طور پر امریکی اہلکار کے ساتھیوں نے جو ایک دوسری گاڑی میں سوار تھے، قرطبہ چوک کے نزدیک ایک موٹر سائیکل سوار کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔

جمعرات کوامریکی شہری کے خلاف زیر دفعہ تین سو دو کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔

جمعرات کو واشنگٹن میں معمول کی بریفنگ کے دوران جب امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلے سے لاہور کے واقعے کے بارے میں صحافیوں کی جانب سے سوالات کی بوچھاڑ ہوئی تو انہوں نے بیشتر سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا، البتہ یہ تصدیق کی کہ واقعے میں ملوث امریکی شہری، امریکی قونصل خانے کا فوجی نہیں، سِول اہلکار تھا۔