ریمنڈ ڈیوس کی خاطر شرعی حل پر غور

ریمنڈ ڈیوس تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ کے اپنے شہری ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے سفارتی استثناء کے مطالبے نے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومت کے لیے بظاہر مشکلات پیدا کردی ہیں

لاہور میں امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے پیچیدہ معاملے کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے اس اسلامی وشرعی قانون میں راہ تلاش کی جارہی ہے جس کے تحت مقتولین کے ورثاء معاوضہ لیکر قتل کے مجرم کو معاف کرسکتے ہیں۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس عدالت میں پیشی کےدوران مقتولین کے ورثا سے معافی مانگنے کا عندیہ تو دے ہی چکے ہیں۔ اس معافی کے ساتھ اگر وہ معاوضہ بھی دینا چاہیں تو پاکستان کا قانون اور اسلامی قانون اس کی اجازت دیتا ہے البتہ اس کے لیے مقتولین کے ورثاء کا آزادنہ طور پر اس پیشکش کو منظور کرنا ضروری ہے۔

لاہور میں امریکی قونصل خانے کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا مقتولین کو ورثا کو معاوضہ دینے کے بارے میں غور کیا جارہا ہے تو انہوں نے ’نوکمنٹس‘ کہہ کر اس معاملہ پر مزید گفتگوسے گریز کیا۔

لاہور میں ستائیس جنوری کو ہلاک ہونے والے مقتولین کے ورثا نے کہا ہے کہ انہیں باضابطہ طور پر کسی معاوضے کی پیشکش نہیں ہوئی ہے البتہ راوی روڈ کے مقتول عبیدالرحمان کے بھائی عمران حیدر نے کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی پیشکش کو ابھی سے مسترد کرتے ہیں۔

امریکی قونصل خانے کے گاڑی تلے آکر کچلے گئے عباد الرحمان کے بھائی اعجاز الرحمان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ اس سے پہلے انصاف کے تقاضے پورے کرنے ضروری ہیں،پہلے ملزموں کو پکڑ کر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ ’قصاص و دیت کے تحت معافی کی بات تو بہت بعد کی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ابھی تو انہیں یہی نہیں علم کہ ان کے بھائی کو کچل کر ہلاک کرنے والے ملزم کون ہیں؟

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ دوران تفتیش امریکی گاڑی میں بیٹھے ڈرائیور اور دیگر لوگوں کی شناخت ہوچکی ہے اور پنجاب حکومت نے امریکی قونصل خانے کو گاڑی اور ڈرائیور کی پولیس حوالگی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

امریکہ کے اپنے شہری ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے سفارتی استثناء کے مطالبے نے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومت کے لیے بظاہر مشکلات پیدا کردی ہیں۔

امریکی مطالبہ ماننے کی صورت میں دونوں حکومتوں کو عوامی اور سیاسی ردعمل کا اندیشہ ہے۔ وہ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں جو ناموس رسالت کے قانون میں ممکنہ ترمیم کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہی ہیں انہوں نے اپنے احتجاجی ایجنڈے میں ریمنڈ ڈیوس کی ممکنہ رہائی کو بھی شامل کرلیا ہے اور اتوار کو ہونے والے ناموس رسالت کے جلوس میں امریکی باشندے کی رہائی کی صورت میں سخت ردعمل دینے کی دھکی دی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومت پر امریکی دباؤ بھی موجود ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت اس کا فیصلہ کرے گی۔ صوبائی حکومت سفارتی استثناء دینے یا نہ دینے کا فیصلہ عدالت کے ذریعے کروانا چاہتی ہے۔

پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ خان نے یہ کہہ کر کہ امریکہ کو سفارتی استثناء کلیم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ایک خط کی بھی ضرورت ہے،گیند ایک بار پھر وفاقی حکومت کی کورٹ میں پھینکنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے پاس اگر ڈپلومیٹک پاسپورٹ موجود بھی ہے تو تب بھی اس کے ساتھ پاکستانی وفاقی حکومت کاایک ایسا خط لگانا ضروری ہے جس میں اسے ایسا سفارتکار تسلیم کیا گیا ہو جسے اس معاملے میں استثناء حاصل ہے۔

پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکار نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کے افراد کو یہ تو کہتے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ نہیں تھا لیکن پاکستانی حکام یا امریکی سفارتخانے کا عملہ اس بارے میں واضح جواب دینے سے گریزاں ہے۔

پنجاب کے وزیر قانون راناثناءاللہ اس سوال کا جواب ٹال گئے جبکہ امریکی قونصل خانےترجمان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اپنا بیان صرف امریکہ سفارتخانے سے جاری ہونے والی اس پریس ریلیز تک محدود رکھیں گے جس میں کہا گیاہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثناء حاصل ہے۔

پولیس کی تحویل میں موجود پاسپورٹ کے مطابق ریمونڈ ڈیوس پاکستانی ویزے پر متعدد بار پاکستان کا دورہ کرچکا ہے۔

پہلی بار وہ سنگل انٹری ویزے پر ستمبر دو ہزار نو میں پاکستان آئے اس کے بعد جون سنہ دوہزار دس میں پاکستانی ہائی کمشن نے انھوں نے دو برس کا ملٹی پل ویزا لیا تھا۔

اس ویزے پر اانھوں نے کئی مہینے پاکستان میں گزارے، کرسمس کے موقع پر وہ امریکہ چلے گئے تھے اور پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ سے صرف ایک ہفتے پہلے ہی وہ اسی ملٹی پل ویزے کی بنیاد پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

اسی بارے میں