’اب اپنی مرضی چلےگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکومت نے بے زمین ہاری عورتوں کو سرکاری زمین بانٹنے کا سلسلہ سال دو ہزار آٹھ سے شروع کر رکھا ہے۔ جہاں حکومتِ سندھ کا یہ پروگرام جاری ہے ان سترہ اضلاع میں سے ٹھٹھہ ایک ہے۔

اس پروگرام کے ذریعے ان عورتوں کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے، میں ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول میں ان چند عورتوں سے ملی جن کو نو ماہ قبل چار چار ایکڑ زمین الاٹ ہوئی تھی۔

ان میں سے ایک عورت کریمن حسین ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’بینظیر نے زمین دلائی ہے۔ اب میرے شوہر کہتے ہیں کہ زمین کی مالکن تو آپ ہیں۔ ہم نے ابھی فصل بھی اٹھائی ہے اور بہت خوش ہیں۔‘

ایک اور خاتون سونا کا زمین ملنے پر کہنا تھا کہ ان کو اپنے گھر کے قریب ہی چار ایکڑ زمین ملی ہے اور انہوں نے اس میں میتھی کاشت کی ہے۔ ’پہلے ہم مشکل زندگی گزارتے تھے، لیکن اب حالات اچھے ہوں گے۔ قرض اٹھا کر میتھی بوئی ہے اور اس کی فصل بیچ کر قرضہ واپس کریں گے۔‘

اس پروگرام کے رابطہ افسر فیصل عقیلی نے بتایا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف غربت ختم کرنا ہے بلکہ عورت اور مرد کے درمیان جو فرق ہے اس میں کمی ہو۔ اور دوسری جانب عورتوں کے مقام میں بہتری آئے۔

ان میں سے کئی عورتوں کی زمین اور کاشت گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے خراب ہوگئی اور زمین کا خرچہ برداشت کرنے کے لیے ان کو اپنی بھینسیں بیچنا پڑیں۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ ’زمین جیسی بھی ہو، ہے تو اپنی۔‘

نعمت کا کہنا ہے’ہم ہاری ہیں، بڑے زمیندار کےلیے کام کرتے تھے۔ وہ خرچہ پانی دیتا تھا اور قرضے بھی دیتا تھا۔ کبھی دیتا تھا کبھی نہیں دیتا تھا۔ اب اپنی چیز ہے، اب اپنی مرضی چلے گی۔‘

ان عورتوں کو حق ملکیت تو مل گیا لیکن اس پروگرام میں حکومت سندھ کی ایک شراکتی تنظیم پارٹسپیٹری ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز کے اہلکار ستار زنگیجو کہتے ہیں کہ سرکاری زمین حاصل کرنے والی تیس فیصد خواتین کو اب بھی کئی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

ستار نے بتایا ’اگر زمین کے ساتھ ایک عورت کے خلاف ایک سادہ سی درخواست درج ہوگئی تو پھر اس کے بجائے کہ وہ زمین کو سنبھالے یا اسے کاشت کرے وہ مقدمے بازی میں پڑی رہے گی۔‘

ٹھٹھہ کے ضلعی عدالت میں ان عورتوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء میں سے ایک احمد ھالو ہیں۔

انہوں کا کہا کہ جو افراد عدالتوں میں درخواستیں دائر کرتے ہیں ان میں اردگرد کے بااثر افراد ہوتے ہیں اور کچھ وہ افراد ہوتے ہیں جن کو یہ گوارہ نہیں کہ عورتوں کو زمین ملے۔

’لیکن زیادہ تنگ کرنے والوں میں چھوٹے زمیندار شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ زمینیں انہیں ملنی چاہیے تھیں۔ لیکن حکومت کی پالیسی تھی کہ جہاں زمین دستیاب تھی وہ زمین اس علاقے ہی کی عورت کو ملے۔‘

اس پروگرام کے تحت زمین تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ حکومت اخبارات میں اشتہار کے ذریعے اعلان کرتی ہے کہ فلاں تاریخ کو کھلی کچہری ہوگی اور وہاں چھان بین کے بعد بے زمین غریب لوگوں کو زمین الاٹ کی جاتی ہے۔ لیکن اس میں اولین ترجیح خواتین کو ملتی ہے۔

زمین بانٹنے کے اعلان سے لے کر زمین کا قبضہ ملنے تک کے تقریباً سات مراحل ہیں اور اس دوران انہیں کئی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ مثالیں ایسی بھی ہیں جن میں ایک عورت کے خلاف پانچ پانچ مقدمات دائر ہیں۔ اور کچھ خواتین کو قبضہ گروپ کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایسی ہی خواتین میں سے ایک خاتون ہیں آسی ملاح۔ ضلعہ ٹھٹھہ کی تحصیل جاتی میں آسی ملاح کو دو ہزار نو میں زمین ملی لیکن وہ ان کے لیے درد سر ہی بنی رہی اور ان کو آخر کار جاتی سے سجاول منتقل ہونا پڑا۔

’مجھے زمین دو سال پہلے ملی اور جب میں زمین کو کاشت کرنے گئی تو کچھ لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا۔ انہوں نے میری ایک بیٹی کو کلہاڑی ماری اور دوسری بیٹی جو اس وقت چل بھی نہیں سکتی تھی اس کو پھینکا۔ بڑی مشکل سے ہمیں گاڑی ملی اور ہم چھ دن ہسپتال داخل رہے۔‘

آسی ملاح نے ان افراد کے خلاف ٹھٹھہ سے حیدرآباد تک جہاں ذرائع ابلاغ کے دروازے کھٹکٹائے وہاں کچہریوں کے دھکے بھی کھائے۔ ان کا مقدمہ اب بھی حیدرآباد کی ایک عدالت میں چل رہا ہے۔

لیکن آج بھی آسی ملاح اپنی زمین حاصل کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ ’ابھی تو بڑی مشکل سے زندگی گزر رہی ہے اور کیونکہ میں یہاں کی نہیں ہوں مجھے قریب کے لوگ پانی بھی نہیں بھرنے دیتے۔ زمین جب ملی تو بڑی خوشی تھی، پھر مار کر بھگا دیا تھا۔ کیا کریں دکھ میں زندگی گزر رہی ہے۔‘

ایسے مقدمات کے حوالے سے احمد ھالو نے بتایا ’ان عورتوں کے پاس دستاویزات تو ہیں لیکن قبضہ نہیں ہے۔ان عورتوں کو دیکھیں، بوڑھی عورتیں ہیں، ان کا کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کے شوہر اب بھی دوسروں کی زمینوں پر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور اپنی زمین کاشت نہیں کرسکتے۔‘

مقامی لوگوں کے مطابق غریب خواتین کے خلاف اپیل دائر کرنے والے اکثر زمیندار ہوتے ہیں کیونکہ وہ غریب کسانوں کو زمین ملنے کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے پسماندگی اور غربت ختم نہیں ہو پائی۔

پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان اور بعد میں پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے لینڈ ریفارمز کی کوشش کی۔ لیکن وہ اصلاحات موثر ثابت نہیں ہوئیں۔