بلوچوں پر زیادتیوں کی کھلی چھوٹ ہے: ایمنسٹی

لاپتہ بلوچوں کے رشتہ دار تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متاثرہ خاندان اور بلوچ تنظیمیں بلوچوں کے لاپتہ ہونے کا الزام سکیورٹی فورسز اور ایجنسیوں پر لگاتی ہیں

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چار ماہ کے دوران 90 بلوچ کارکن، اساتذہ، صحافی اور وکیل پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے ہیں یا انہیں ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے اور بظاہر وہاں اس طرح کی زیادتیوں کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔

ادارے نے امریکہ سمیت پاکستان کے دوسرے غیر ملکی اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کو دی جانے والی ان کی فوجی امداد بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے لیے استعمال نہ ہو۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اکتوبر سے اس سال فروری تک پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے افراد میں سے 65 فیصد کو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا اور ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔

ادارے نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے وہ ’بلوچستان میں سرکاری اداروں سے منسوب کیے جا رہے لوگوں کو لاپتہ اور ہلاک کرنے کے ان تشویشناک واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کرے۔‘

اس سلسلے میں بی بی سی نے پاکستانی حکام سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بلوچستان کے بارے میں اپنی تازہ رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پچھلے سال 24 اکتوبر سے اس سال 20 فروری تک مجموعی طور پر 56 بلوچوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، 25 بلوچوں کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 65 فیصد کی بعد میں تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ اسکے علاوہ 9 افراد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاک ہوئے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان اور بلوچ تنظیمیں ان ’کِل اینڈ ڈمپ آپریشنز‘ کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز، خاص طور پر فرنٹیئر کور اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں پر عائد کرتی ہیں۔

’عینی شاہدین کے مطابق کئی افراد کو تو فرنٹئر کور کے باوردی اہلکاروں نے لوگوں کے سامنے اغواء کیا جن کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد تھے لیکن سیکیورٹی فورسز ان الزامات کی تردید کرتی ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ یہ ہلاکتیں مسلح بلوچ گروہوں کی آپس کی لڑائیوں کا نتیجہ ہیں۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا یہ رجحان تشویشناک ہے۔

ادارے کے مطابق بلوچستان میں انسانی بحران کو بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے حتی کہ پاکستان کے اندر بھی، لیکن وہاں ہزاروں افراد نہ صرف شدید محرومی بلکہ امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیاء پیسیفک ریجن کے ڈائریکٹر سیم ظریفی کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اکتوبر سے لوگوں کی پراسرار گمشدگیوں اور غیرقانونی ہلاکتوں کے واقعات میں ہر مہینے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ان کے بقول یہ زیادتیاں کھلی چھوٹ کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ اعدادوشمار اس نے بلوچ سول سوسائٹی گروپس اور قابل اعتبار میڈیا رپورٹس سے حاصل کیے ہیں اور وہ ان کی دوسرے ذرائع سے تصدیق نہیں کرسکی ہے لیکن اس سلسلے میں وہ پاکستانی حکومت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ ہر ایک واقعے کی معتبر، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائے۔

سیم ظریفی نے کہا ہے کہ ’حکومت پاکستان اور بلوچ عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ان واقعات کی قابل اعتبار تحقیقات کی جائیں اور اسکی بنیاد پر ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘

انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے پاکستان کے غیرملکی اتحادیوں خاص طور پر امریکہ اور چین سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مسلح بلوچ گروہوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں سے گریز کریں جن میں شہریوں کو نشانہ بنایا جائے یا ان کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق موجودہ حکومت جس کے اقتدار میں آنے پر بلوچ آزادی پسند مسلح گروہوں نے ہتھیار رکھنے کا اعلان کیا تھا، آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کرنے کے باوجود بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے بلوچستان میں بدامنی اور بلوچ عوام میں مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کا یہ رویہ اختیارات پر گرفت میں اسکی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی بارے میں