مسخ لاشیں ملنے کا سلسلہ

بلوچستان میں سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں مبینہ طور پر جو ہزاروں لوگ فوجی آپریشن کے دوران لاپتہ ہوئے تھے گزشتہ سال جولائی سے ان لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

حقوقِ انسانی کےلیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق اب تک چوراسی سے زیادہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں صوبے کے مختلف علاقوں سے مل چکی ہیں۔

صوبے میں مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ گزشتہ سال جولائی میں اس وقت سے شروع ہوا تھا جب کوئٹہ کے نواحی علاقے سے پانچ مسخ شدہ لاشیں ملی تھی۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں اور حقوقِ انسانی کےلیے کام کرنے والی تنظیموں نے پہلی بار ملنے والی مسخ شدہ لاشوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔

لاپتہ افراد کے لواحقین نے گیارہ ستمبر کو عید الفطر کویوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان میں لاپتہ ہزاروں بلوچ سیاسی کارکنوں کو برآمد کروانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

اس موقع پر بلوچ طلبہ تنظیم (بی ایس او آزاد ) کے نائب صدر ذاکرمجید کی بہن نے کہا تھا کہ لاپتہ بلوچ نوجوان آج بھی خفیہ اداروں کے ٹارچرسیلوں میں ہیں اور بقول ان کے اب تک پندرہ سے زیادہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

اٹھارہ دسمبر دو ہزار دس کو تربت میں دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھی اور بلوچ طلبہ تنظیم (بی ایس او) آزاد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں یوسف رضا اور رازق لطیف بلوچ شامل تھے جنہیں بعض نامعلوم افراد نے پنجگوں سے اغواء کیا تھا۔

اس کے کچھ دنوں بعد خضدار کے علاقے پشک سے مزید دو لاشیں ملی تھی اور مقامی صحافیوں کے مطابق ان افراد میں ابرایم محمد حسنی کا تعلق سراب اور نور احمد زہری کا تعلق پشک سے بتایا گیا تھا۔

پانچ جنوری دو ہزار گیارہ کو تربت سےگیارہ کلومیٹردو پیدراک کے علاقے سے دو بلوچ طلبہ قمبرچاکر اور الیاس نذر کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں۔

اس واقعہ کے خلاف بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او (آزاد) کی اپیل پر بلوچستان کے اکثر بڑے شہروں نوشکی، مستونگ، خضدار، پنجگور، تربت، آواران، ہوشاب تربت اور مند میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی تھی جبکہ بی ایس او کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔

گیارہ فروری دو ہزار گیارہ میں تربت سے دو لاپتہ افراد کی لاشیں ملی تھیں جنہیں دو ماہ قبل نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا تھا۔ تربت سے مقامی صحافی جہانگیر اسلم کے مطابق مسخ شدہ لاشوں میں سے ایک بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او (آزاد) کے مرکزی کمیٹی کے رکن کمانڈر قیوم بلوچ اور دوسری بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) گروپ کے آرگنائزر جمیل یعقوب بلوچ کی تھی۔

لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے خلاف صوبے کے اکثر بلوچ علاقوں میں مکران ڈویژن کے بڑے شہروں گوادر، پسنی، تربت، مند اور تمپ کے علاوہ پنجگور، خضدار اور دیگر بڑے شہروں میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔

بلوچ قوم پرست جماعتوں کا الزام ہے کہ جن افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہو رہی ہیں ان کو سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کیا تھا۔

بلوچستان سے نہ قابل شناخت اور مسخ شدہ لاشیں لاپتہ بلوچ نوجوانوں کےگھروں میں پریشانی اور اذیت کا باعث بن رہی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ لاش ان کے لاپتہ نوجوان کی تو نہیں ہے۔

اسی بارے میں