شہباز بھٹی: بین المذاہب ہم آہنگی کے سرگرم کارکن

شہباز بھٹی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیالیس سالہ وزیر سنہ دو ہزار آٹھ سے وفاقی کابینہ کے رکن تھے

نامعلوم مسلح شدت پسندوں کے ہاتھوں بدھ کی صبح اسلام آباد میں قتل ہونے والے پاکستان کے اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی نو ستمبر انیس سو اڑسٹھ میں فیصل آباد کے قریب خوش پور میں پیدا ہوئے ۔

وہ اپنے معمول کے مطابق اپنی والدہ سے ملنے کے بعد مصروفیات کا آغاز کرتے تھے اور بدھ کو جب وہ والدہ سے ملنے کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تو تین مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روک کر انہیں گولیاں مار کر قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق وہ اپنی والدہ کے احترام کی وجہ سے جب ان کے پاس جاتے تو پولیس ’ایسکارٹ‘ کو ساتھ نہیں لے جاتے تھے۔

کیتھولک مسلک سے تعلق رکھنے والے شہباز بھٹی نے پہلے ’کرسچن لبریشن فرنٹ‘ بنایا اور بعد میں ’آل پاکستان مائنارٹیز الائنس‘ تشکیل دیا۔ سترہ کروڑ سے زیادہ آبادی والے مسلمان اکثریتی ملک پاکستان میں ہندوؤں کے بعد کرسچن دوسری بڑی اقلیت ہے، جن کی تعداد تقریبا اٹھائیس لاکھ کے قریب ہے۔

شہباز بھٹی اقلیتوں کے مسائل کے حل، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرتے رہے اور انہیں ایسی کوششوں پر فِنلینڈ، امریکہ اور کنیڈا سے ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔

مقتول وفاقی وزیر کا سیاسی تعلق پیپلز پارٹی سے رہا اور وہ بینظیر بھٹو کے بہت قریب تھے۔ نظیر بھٹو کے بچے انہیں ’انکل شہباز‘ کہتے ہیں۔

سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں انہوں نے خود رکن قومی اسمبلی بننے کو ترجیح نہیں دی بلکہ ’آل پارٹیز مائنارٹی الائنس‘ کے پروفیسر مشتاق وکٹر کو رکن منتخب کروایا۔

پروفیسر مشتاق وکٹر بعد میں پرویز مشرف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے توڑے ہوئے اراکین کے گروپ ’پیٹریاٹ‘ میں شامل ہوگئے جس کے بعد ساتھیوں کے کہنے پر سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں اقلیت کے لیے مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر شہباز بھٹی خود منتخب ہوئے۔

شہباز بھٹی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں سنہ دو ہزار آٹھ میں شامل ہوئے اور گزشتہ ماہ جب کابینہ مستعفی ہوئی اور دوبارہ اکیس رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھایا تو شہباز بھٹی بھی اس میں شامل تھے۔

شہبازاز بھٹی اکثر طور پر اپنا بڑا مذہبی تہوار ’کرسمس‘ جیل میں قیدیوں کے ساتھ یا پھر معذوروں سمیت معاشرے کے نچلے اور نظر انداز طبقے کے ساتھ مناتے تھے۔

مقتول وفاقی وزیر نے گزشتہ برس جولائی میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس منعقد کروائی جس میں پاکستان کی تمام مکاتب فکر کی مذہبی جماعتوں اور علماء کی مشاورت سے ایک اعلامیہ تیار کیا۔

شہباز بھٹی اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کرنے اور ناموس رسالت سمیت ایسے قوانین جو سابق ڈکٹیٹر ضیاالحق نے متعارف کروائے اور ان کا غلط استعمال رکوانے کے لیے ان میں ترمیم کا مطالبہ کرتے رہے۔

گزشتہ برس ایک کرسچن خاتون آسیہ بی بی کو ناموس رسالت کے قوانین کے تحت مبینہ طور پر ایک جھوٹے مقدمے میں جب سزا سنائی گئی تو پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی نے متعلقہ قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ان میں ترامیم کی مہم چلائی۔

اس کے بعد پاکستان میں مذہبی گروہوں نے اس کی مخالفت میں بھرپور تحریک چلائی۔ اس تحریک نے زور اس وقت پکڑا جب مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت سے علیحدگی کے بعد تحریک کی حمایت کی۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے پولیس محافظ نے چار جنوری کو اسلام آباد میں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ ان کے قتل کی شہباز بھٹی نے جہاں کھل کر مذمت کی وہاں ان کی یاد میں کئی پروگرام بھی منعقد کروائے۔ اس کے بعد ان کی زندگی کو خطرات لاحق تھے اور انہیں اپنے کچھ دوستوں اور عزیزوں نے مشورہ دیا کہ وہ کچھ عرصہ ملک سے باہر چلے جائیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

شہباز بھٹی غیر شادی شدہ تھے اور ان کے سوگواروں میں ان کی والدہ، چار بھائی اور ایک بہن ہیں۔

اسی بارے میں