پشاور میں کینسر ہسپتال کی تعمیر

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption موجودہ حالات میں پشاور میں کینسر ہسپتال بنانا ایک چیلنج ہے: عمران خان

صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سیاست دان عمران خان نے پشاور کے علاقے حیات آباد میں شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کا افتتاح کیا ہے۔

کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے اس ہسپتال کی تعمیر کے لیے صوبائی حکومت نے پچاس کنال اراضی مُفت فراہم کی ہے۔

ہسپتال کی عمارت کی تعمیر تین سال میں مکمل ہوگی اور اس منصوبے کا تخمینہ چار سو ملین روپے ہے۔

اس سے پہلے شوکت خانم کینسر ہسپتال صرف صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہے۔

بدھ کو اس موقع پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ اس وقت پشاور میں کینسر ہسپتال بنانا ایک چیلنج ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک تو پشاور کے اندر کینسر کے لیے مناسب سٹاف موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کے ماہرین کی پوری دُنیا میں کمی ہے اور پھر پشاور میں ایک کینسر سپیشلسٹ کو دعوت دینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کا اثر لاہور میں بھی ہے اور یہاں پشاور میں تو آپ لوگ اس کے مرکز میں ہیں۔ عمران کےمطابق ان کا ایمان ہے کہ یہ منصوبہ تین سال سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔

عمران خان نے بتایا کہ سب سے زیادہ مریض خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے آتے ہیں۔ اب وہ یہ بھی معلوم کریں گے کہ یہاں کینسر کے مریض کیوں زیادہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ماڈل ہسپتال ہوگا۔

لاہور کے شوکت خانم ہسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں میں دوسری سب سے بڑی تعداد کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔

نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق اب تک خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے چالیس ہزار مریض شوکت خانم ہسپتال لاہور میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔

پشاور میں ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ پحتون قوم کی اپنی روایت ہے اور ہم ایک چھوٹی سی نیکی کو کھبی بھی نہیں بھلا سکتے۔

انھوں نے کہا کہ پختون قوم عمران خان کی اس کوشش کو ہمشہ یاد رکھے گی۔

انہوں کہا کہ یہ عمران خان کی کسی ٹرسٹ کا ہسپتال نہیں بلکہ یہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کا ہسپتال ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کہ کچھ چیزیں سیاست سے بالاتر ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیئیں۔انہوں نے عمران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان آپ ہماری رہنمائی کریں اور ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘

یاد رہے کہ ہسپتال کی فنڈنگ کے لیے وزیر اعلیٰ کے پانچ کروڑ روپے کے اعلان کے علاوہ درجنوں لوگوں نے پچاس لاکھ سے لیکر ایک ایک کروڑ تک کے اعلانات کیے ہیں۔

اس پر عمران خان نے کہا کہ جب وہ لاہور میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندہ اکھٹا کر رہے تھے تو ایک کروڑ روپے کے لیے انہوں نے تین سال تک محنت کی لیکن اب ہسپتال کے افتتاح سے پہلے کروڑ روپے جمع ہوگئے ہیں۔