آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 مارچ 2011 ,‭ 16:51 GMT 21:51 PST

ورثاء کی معافی، ڈیوس رہا، ’معاوضہ ہم نے نہیں دیا‘

دو پاکستانیوں کے قاتل امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو مقتولین کے ورثاء کی جانب سے بیس کروڑ روپے خوں بہا لے کر معاف کیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے ترجمان صدیق الفاروق نے انکشاف کیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں سعودی عرب نے کردار ادا کیا ہے۔

رہائی کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی

لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو مقتولین کے ورثاء کی جانب سے معاف کیے جانے کے بعد عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔

ورثاء کے وکیل کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے دیت کی مد میں بیس کروڑ روپے کی رقم ادا کی ہے۔

نامہ نگار عباد الحق کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اسلحے کے مقدمے میں انہیں چالیس دن قید اور بیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی جس کے بعد جرمانےکی رقم ادا کر دی گئی جبکہ قید کی مدت کو اس عرصے میں شمار کیا گیا ہے جو ریمنڈ نے حراست میں گزارا ہے۔

کلِک ریمنڈ کی خاطر شرعی حل پر غور

کلِک ’ایک ایشو پر تعلقات قربان نہیں ہو سکتے‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے سی آئی اے کے لیے کام کرنے والے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے مقدمے میں بریت کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ غیر قانونی اسلحے کے مقدمے میں وہ ضمانت پر ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے امریکی سفیر کیمرون منٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ مقتولین کے ورثاء نے ریمنڈ ڈیوس کو معاف کردیا ہے۔ ’میں اس عمل پر ورثاء کا شکر گزار ہوں۔ میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ امریکی محکمہ انصاف نے ریمنڈ ڈیوس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

بدھ کو ریمنڈ ڈیوس پر دوہرے قتل کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کی جانی تھی تاہم مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ مقتولین کے ورثاء نے عدالت میں پیش ہو کر انہیں معاف کر دیا جس کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔

لاہور سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس صلح میں پنجاب حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے اور ملزم کو معاف کرنا ورثاء کا شرعی اور قانونی حق ہے۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کا کہنا تھا کہ یہ بات بے بنیاد ہے کہ مقتولین کے ورثاء سے زبردستی دیت کے کاغذات پر دستخط کروائے گئے ہیں۔

ان کے بقول مقتولین کے تمام شرعی ورثاء عدالت میں پیش ہوئے تھے اور اگر مقتولین کے وکیل کو کوئی تحفظات ہیں تو وہ اس ضمن میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس سوال پر کہ رہائی کے بعد ریمنڈ ڈیوس کہاں ہیں صوبائی وزیرِ قانون نے کہا کہ وہ ایک آزاد امریکی شہری ہیں وہ جہاں بھی چاہیں جا سکتے ہیں۔

امریکی حکام نے مقتولین کی ورثاء کو بیس کروڑ روپے بطور دیت ادا کیے ہیں اور یہ رقم تمام ورثاء میں قانون کے مطابق تقسیم ہوگی۔ مقتولین کے اٹھارہ ورثاء عدالت میں پیش ہوئے تھے

راجہ ارشاد

ادھر مقتولین کے وکیل راجہ ارشاد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکی حکام نے مقتولین کی ورثاء کو بیس کروڑ روپے بطور دیت ادا کیے ہیں اور یہ رقم تمام ورثاء میں قانون کے مطابق تقسیم ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتولین کے اٹھارہ ورثاء عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

مقتولین کے ایک اور وکیل اسد منظور بٹ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں بدھ کو جیل کے اندر ہونے والی کارروائی میں شامل نہیں ہونے دیا گیا اور انہیں ان کے ایک ساتھی وکیل سمیت ساڑھے چار گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔

ریمنڈ ڈیوس کے خلاف دوہرے مقدمے پر کارروائی سینٹرل جیل کے اندر ہو رہی تھی اور ایڈیشنل سیشن جج یوسف اوجلا اس مقدمے کی سماعت کر رہے تھے۔ ریمنڈ پر الزام تھا کہ انہوں نے ستائیس جنوری کو لاہور میں فیضان اور فہیم نامی دو نوجوانوں کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

ان کی گرفتاری کے بعد امریکی حکام نے انہیں سفارتی استثنٰی حاصل ہونے کا معاملہ اٹھایا تھا جبکہ حکومتِ پاکستان نے کہا تھا کہ اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

خیال رہے کہ ڈیوس کی گرفتاری کے پیچیدہ معاملے کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے اسلامی و شرعی قانون کو استعمال کرنے کی باتیں پہلے بھی سامنے آئی تھیں اور اس واقعے کے چند دن بعد ہی پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اگر معاوضہ بھی دینا چاہیں تو پاکستان کا قانون اور اسلامی قانون اس کی اجازت دیتا ہے البتہ اس کے لیے مقتولین کے ورثاء کا آزادانہ طور پر اس پیشکش کو منظور کرنا ضروری ہے۔

’معاوضہ ہم نے ادا نہیں کیا‘

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکی اہلکار کے ہاتھوں قتل ہونے والے دو افراد کے ورثاء کو زرِ تلافی امریکی حکومت نے ادا نہیں کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں امریکی وزارتِ خارجہ نے سی آئی اے کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر کہا کہ وہ مقتولین کے ورثاء کی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ریمنڈ ڈیوس کو معاف کردیا۔

امریکی وزارتِ خارجہ سے جب پوچھا گیا کہ کہ مقتولین کے ورثاء کو کسے نے زرِ تلافی ادا کیا تو ان کا کہنا تھا ’یہ آپ مقتولین کے ورثاء سے پوچھیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ معاوضہ حکومتِ پاکستان نے ادا کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سوال حکومتِ پاکستان سے پوچھا جائے۔

دوسری جانب سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر امریکی سفارتخانے سے جاری ایک بیان میں سینیٹر جان کیری نے کہا ہے ’یہ ہمارے دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم اور ضروری اقدام تھا تاکہ ہم اپنے تعلقات کو برقرار رکھ سکیں اور بنیادی قومی مفادات کے حصول پر توجہ دے سکیں اور مجھے پاکستانی حکومت کے فیصلے سے انتہائی خوشی ہوئی ہے۔‘

بیان میں انہوں نے مزید کہا ’ہمیں لاہور میں انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس ہے ۔۔۔ تاہم دونوں ممالک اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کے سانحے کے باعث ہمارے اہم تعلقات متاثر ہوں۔‘

اس سے قبل اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے امریکی سفیر کیمرون منٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ مقتولین کے ورثاء نے ریمنڈ ڈیوس کو معاف کر دیا ہے۔’میں اس عمل پر ورثاء کا شکر گزار ہوں۔ میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ امریکی محکمۂ انصاف نے ریمنڈ ڈیوس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔‘

رہائی میں سعودی کردار

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دو پاکستانیوں کو ہلاک کرنے والے سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے ترجمان صدیق الفاروق نے انکشاف کیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں سعودی عرب نے کردار ادا کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مقتولین کے لواحقین کو عمرہ کروایا گیا اور سعودی عرب میں انہوں نے خون بہا لے کر ریمنڈ ڈیوس کو معاف کر دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ رقم کے بارے میں انہیں معلوم نہیں کہ کتنی رقم لی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی سعودی عرب سے دوستی ہے اور انہوں نے کردار ادا کیا ہے۔’جب مقتولین کے ورثاء نے رقم لے کر ریمنڈ ڈیوس کو معاف کر دیا تو اس کے بعد پنجاب حکومت انہیں مزید قید نہیں رکھ سکتی۔ پنجاب حکومت کے بارے میں شک و شبہہ کرنا مناسب نہیں۔‘

امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر رد عمل کے لیے مرکز میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم سے رابطہ کیا لیکن ان کے سرکردہ رہنما دستیاب نہیں ہو سکے۔

مقتولین کے لواحقین نے پہلے خون بہا لینے سے انکار کیا تھا تو اب اچانک انہوں نے کیسے معاف کردیا۔ اس میں پنجاب حکومت کا ہاتھ لگتا ہے

لیاقت بلوچ

لیکن حزب مخالف کی ایک جماعت مسلم لیگ قاف کے ایک رہنماء میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ جب مقتولین کے ورثا معاف کردیں تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ ’ضیاءالحق نے جب اسلامی قانون منظور کیا کہ قصاص و دیت کے بعد ورثاء معاف کر سکتے ہیں تو ایسے میں ریاست بھی کچھ نہیں کر سکتی۔‘

جمعیت علماء اسلام فضل الرحمٰن کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ شرعی اعتبار سے تو ورثا کی معافی کے بعد معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ ایسا معاملہ تھا جو ورثاء پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا اور حکومت قوم کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرتی۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح عجلت میں یہ فیصلہ ہوا ہے اس سے انہیں لگتا ہے کہ دال میں کالا ہے۔ لیکن ان کے بقول وہ پوری معلومات حاصل کرنے کے بعد اپنا رد عمل ظاہر کریں گے۔

ایک اور مذہبی پارٹی جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ مقتولین کے لواحقین نے پہلے خون بہا لینے سے انکار کیا تھا تو اب اچانک انہوں نے کیسے معاف کردیا۔ ان کے بقول اس میں پنجاب حکومت کا ہاتھ لگتا ہے۔

ستائیس جنوری کو لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد پارلیمان کے اندر اور باہر پاکستان کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بڑا احتجاج کیا کہ ریمنڈ ڈیوس نے پاکستان کی سالمیت اور قومی غیرت کو چیلینج کیا ہے لہٰذا انہیں سزا دی جائے۔ لیکن اب ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے بعد ان کے رد عمل سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب ایک ہی سکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔

رہائی کے خلاف مظاہرے

  • لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو مقتولین کے ورثاء کی جانب سے معاف کیے جانے کے بعد عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے مقدمے میں بریت کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ غیر قانونی اسلحے کے مقدمے میں وہ ضمانت پر ہیں۔
  • دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے امریکی سفیر کیمرون منٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ مقتولین کے ورثاء نے ریمنڈ ڈیوس کو معاف کردیا ہے۔
  • بدھ کو ریمنڈ ڈیوس پر دوہرے قتل کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کی جانی تھی تاہم مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ مقتولین کے ورثاء نے عدالت میں پیش ہو کر انہیں معاف کر دیا جس کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔
  • انہوں نے کہا کہ اس صلح میں پنجاب حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے اور ملزم کو معاف کرنا ورثاء کا شرعی اور قانونی حق ہے۔
  • اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے کارکن مظاہرہ کر رہے ہیں۔
  • امریکی سفیر کیمرن منٹر نے بیان میں کہا ہے ’میں اس عمل پر ورثاء کا شکر گزار ہوں۔ میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ امریکی محکمہ انصاف نے ریمنڈ ڈیوس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔‘
  • کراچی سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی، ایم پی اے نصراللہ شیخ اور دیگر کا کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس قومی مجرم تھا کسی خاندان کا مجرم نہیں۔
  • جماعت اسلامی نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے
  • لاہور میں بھی ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے خلاف مظاہرہ

ریمنڈ کیس: کب کیا ہوا

بدھ کو پاکستان کے صوبہ پنجاب حکومت کے مطابق امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو مقتولین کے ورثاء کی جانب سے معاف کیے جانے کے بعد عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔

دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے الزام میں امریکی اہلکار کی گرفتاری اور رہائی کے احوال کی تفصیل ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر نے جمع کی ہے۔

ستائیس- اکتیس جنوری

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

کو لاہور کےعلاقے مزنگ میں ایک گاڑی میں سوار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوار دو پاکستانی شہری ہلاک اور مبینہ طور پر امریکی اہلکار کے ساتھیوں نے جو ایک دوسری گاڑی میں سوار تھے، قرطبہ چوک کے نزدیک ایک موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا۔

اسی روز امریکی اہلکار کے خلاف زیر دفعہ تین سو دو کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلے نے تصدیق کی کہ واقعے میں ملوث امریکی شہری، امریکی قونصل خانے کا فوجی نہیں، سِول اہلکار تھا۔

اٹھائیس جنوری کو امریکی قونصلیٹ کے اہلکار کو مقامی عدالت نے چھ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ پولیس تفیتش کے مطابق امریکی اہلکار وزٹ ویزے پر پاکستان آیا تھا۔

جمعہ کو ہی پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں امریکی قونصل خانے کا ایک ملازم ایک ایسے واقعے میں ملوث ہوا ہے جس میں افسوناک طور پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ سفارت خانہ پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر حقائق معلوم کرنے اور معاملہ کے حل کے لیے کام کر رہا ہے۔

انتیس جنوری کو امریکہ نے لاہور میں قتل کے الزام میں گرفتار امریکی قونصلیٹ کے اہلکار کا سفارت کار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ بیان کے مطابق ریمنڈ ڈیوس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی تھی۔

ایک بار پھر پیر اکتیس جنوری کواسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے امریکی اہلکار کی گرفتاری کو غیر قانونی اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ یہ استثنیٰ سفارتخانے میں کام کرنے والے تکنیکی اور انتظامیہ کے ارکان کو بھی حاصل ہوتا ہے۔

اسی دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق لاہور میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے پیچیدہ معاملے کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے اس اسلامی وشرعی قانون میں راہ تلاش کی جانے لگی جس کے تحت مقتولین کے ورثاء معاوضہ لیکر قتل کے مجرم کو معاف کرسکتے ہیں۔

یکم-سات فروری

ریمنڈ ڈیوس کے خلاف مظاہرے ہوئے

یکم فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو بیرون ملک بھیجنے پر بھی پابندی لگا دی۔اسی روز امریکی شہری کے مقدمہ کی پیروی کرنے والے پنجاب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رانا بختیار خود کو مقدمہ سے الگ کرنے کی اطلاعات کے بعد مستعفی ہوگئے۔

دو فروری کو وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ امریکی اہلکار ریمنڈ ایلن ڈیوس سفارتی ویزے پر پاکستان آیا۔ اسی دن عدالت نے مقدمے میں دہشت گردی کے دفعات کو شامل کی درخواست منظور نہیں کی۔

چار فروری کو امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو حفاظتی نکتہ نظر سے پنجاب پولیس کے تفتیشی ادارے سی آئی اے کی تحویل میں دیا گیا۔

دو دن بعد چھ فروری کو امریکی شہری کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری فہیم کی بیوہ نے اپنے شوہر کے قتل کے الزام میں ملوث امریکی اہلکار کی رہائی کے خدشے پر خودکشی کر لی۔

آٹھ-چودہ فروری

آٹھ فروری پاکستان میں امریکی سفیرنے پاکستانی صدر آصف علی زرداری سےامریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

اس سے اگلے روز امریکی کانگریس کی مسلح افواج کی کمیٹی کے دو اعلیٰ ارکان نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے لاہور میں گرفتار ہونے والے امریکی اہلکار کو رہا نہ کیا تو پاکستان کے لیے امریکی امداد خطرے میں پڑسکتی ہے۔

اسی دن پنجاب کے وزیر قانون نے کہا کہ امریکہ نے ابھی تک ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنیٰ کی کوئی دستاویز حکومتِ پنجاب کو پیش نہیں کی۔

دس فروری کو امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا بیان سامنے آیا کہ قتل کے الزام میں گرفتار امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان کشیدگی محسوس کی جا رہی ہے۔

گیارہ فروری کو لاہور کی ایک مقامی عدالت میں امریکی سفارتخانے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے خلاف لاہور پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو دو کے تحت چالان پیش کر دیا اور سماعت پچیس جنوری کو طے پائی۔

ایک دن بعد بارہ فروری کو لاہور میں امریکی قونصلیٹ کی قونصل جنرل کارمیلا کانرائے نے ایک بار پھر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ دو شہریوں کے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی تعلقات کے عالمی قوانین کے تحت فی الفور رہا کیا جائے۔

پندرہ-بائیس فروری

فائل فوٹو، جان کیری، صدر زرداری

پندرہ فروری کو امریکی حکومت نے ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنٰی کو پاکستانی عدالت میں ثابت کرنے کا اعلان کیا۔

سولہ فروری کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹر جان کیری نے کہا کہ ڈیوس کے خلاف پاکستان میں کارروائی نہیں ہو سکتی لیکن امریکی محکمۂ انصاف پاکستانی شہریوں کے مبینہ قتل کے بارے میں ریمنڈ ڈیوس سے غیرجانبدارانہ تفیش کرے گا۔

اسی روز امریکی صدر اوباما نے کہا کہ پاکستان پر ویانا کنونشن لاگو ہوتا ہے اور وہ اس کا پاس رکھتے ہوئےامریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرے۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرس میں سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے دفترِ خارجہ میں بریفنگ میں ان کو بتایا گیا تھا کہ ریمنڈ کو مکمل استثنی حاصل نہیں ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر حکومت منجدھار میں پھنسی ہوئی ہے۔

سترہ فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنیٰ کے بارے میں جواب داخل کرانے کے لیے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو چودہ مارچ تک کی مہلت دے دی۔ وفاقی وزارت داخلہ نےعدالت کو بتایا کہ ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔

بائیس فروری کو امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لاہور میں دو پاکستانیوں کے قتل میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کر رہا تھا۔

چوبیس-اٹھائیس فروری

امریکی سفارتی ذرائع نے چوبیس فروری کو اشارہ دیا کہ یہ معاملہ عالمی عدالت میں لےجایا جا سکتا ہے۔ تاہم اگلے ہی دن لاہور کی مقامی عدالت کے جج نے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے تین مارچ کی تاریخ مقرر کردی۔

حفاظتی انتظامات کے باعث مقدمہ پر کارروائی کا انتظام جیل میں کیا گیا تھا۔

چھبیس فروری کو یہ خبر سامنے آئی کہ آئی ایس آئی نے سی آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں کام کرنے والے اپنے تمام کانٹریکٹرز کی تفضیلات فراہم کرے اور دو دن بعد پاکستان میں آئی ایس آئی کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی حالیہ دنوں میں پاکستانی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطوں سے کشیدگی میں کمی آئی ہے۔

یکم-آٹھ مارچ

دو مارچ کو ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس اعجاز احمد چودھری نے قرار دیا کہ امریکی شہری کے سفارتی استثنیْ کا فیصلہ پاکستانی حکومت کرے گی۔

اس سے اگلے روز تین مارچ کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ایک مقامی عدالت کے جج نے دو پاکستانی شہریوں کےقتل کے مقدمے میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی سفارتی استثنی کی درخواست مسترد کر دی۔

آٹھ مار چ کو امریکی اہلکار کے خلاف مقدمہ کی دستاویزات نامکمل ہونے کی بناء پر ان پرفردِ جرم عائد نہیں ہو سکی اور مقامی جج نے فردِ جرم کے لیے سولہ مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی۔

نو-سولہ مارچ

چودہ مارچ کو لاہور ہائی کورٹ نے دو پاکستانی شہریوں کے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے سے متعلق درخواستیں نمٹا دی۔

دو دن بعد جب دوہرے قتل کے الزام میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس پر فردِ جرم عائد کی جانی تھی تو عدالت میں مقتولین کے ورثاء نے پیش ہو کر دیت قبول کرنے کا اعتراف کیا جس کے بعد ڈیوس کو عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔