کان دھماکہ، تینتالیس لاشیں برآمد

امدادی کارکنوں میں قریبی کانوں میں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن

امدادی کارکنوں میں قریبی کانوں میں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور سورینج کے مقام پر کوئلے کی کان سے تینتالیس افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

پی ایم ڈی سی کے تحت چلنے والی اس کان میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو دھماکہ ہوا تھا۔

پی ایم ڈی سی کے ایک اہلکار امجد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ کان سے تینتالیس افراد کی لاشیں نکالنے کے بعد امدادی کارروائیاں ختم کی دی گئی ہیں۔

اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ کان سے بتیس افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ اکیس کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

تاہم منگل کو حکام کے مطابق کان سے تینتالیس کان کنوں کی لاشیں نکالے جانے کے بعد امدادی کارروائیاں ختم کر دی گئی ہیں کیونکہ کان کے اندر اب اطلاعات کے مطابق مزید کوئی کان کن موجود نہیں ہے۔

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ کان سے نکالی جانے والی بارہ لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں اور حکام نے ان لاشوں کو آبائی علاقے میں بھیجنے کے لیے ہیلی کاپٹر کی درخواست کی ہے۔

ہلاک ہونے والے ان بارہ افراد کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے ہے۔ جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر کان کنوں کی لاشیں بھی ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کی جا رہی ہیں۔

پیر کی رات تک حکام کے مطابق بتیس کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی تھیں۔

اس سے پہلے محکمۂ معدنیات کے سیکرٹری مشاق رئیسانی نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ حادثے کو اڑتالیس گھنٹے سے زائد گزر جانے کے بعد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کان میں پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

بلوچستان میں کوئلہ کی کان کنی بڑی صنعت ہے

دوسری جانب صوبائی حکومت نے مزید کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کےلیے فوری طور پر سورینج کے علاقے میں واقع دیگر تمام سرکاری اور غیر سرکاری کانوں سے میں غیر معینہ مدت تک کے لیے کوئلہ نکالنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس مقصد کے لیے سکیورٹی فورسز کو علاقے میں تعینات کر دیاگیا ہے۔

کوئٹہ میں وزیراعلٰی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے سیکرٹری معدنیات کو فوری طور پر واقعہ کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ صوبائی وزیر معدنیات عبدالرحمن مینگل نے واقعہ کی ذمہ داری پی ایم ڈی سی کی انتظامیہ پر عائد کرتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ایک ماہ کے اندر حکومت کو رپورٹ پیش کرےگی۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کی کان کنی بڑی صنعت ہے جس سے ساٹھ ہزار افراد کا روزگار وابستہ ہے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق خیبر پختونخواہ کے علاقوں مالاکنڈ اور سوات سے ہے۔