سونامی اور پاکستان

جاپان میں تباہی تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ’پاکستان میں ننانوے فیصد گاڑیاں جاپان ہی سے در آمد ہوتی ہیں‘

زلزلے اور سونامی کے اثرات سے جاپان تو نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر اس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس ہو رہے ہیں۔ ان میں ایک منفی اثر استعمال شدہ گاڑیوں کے کاروبار پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

گیارہ مارچ کی صبح، سید بخاری محمد عرفان ایک میٹنگ میں مصروف تھے جب ان کو جاپان کی تاریخ کے سب سے بڑے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے ۔

ان کا صدر دفتر شہر یوکوہاما میں واقع ہے۔ مسٹر عرفان کی کمپنی ایف ڈبلیو ٹی لوجسٹکس کے سربراہ ہیں، جو کہ جاپان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی شپنگ کی ایک بڑی کمپنی ہے۔

دوپہر تقریباً تین بجے، ان کو خبر ملی کہ ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں بہت بڑی سونامی تباہی مچا رہی ہے۔ پھر شام پانچ بجے ان کو ہٹاچی ناکا بندر گاہ سے کال آئی کہ حکومت نے اس علاقے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور لوگوں کو نقل مکانی کو کہا گیا ہے۔

’ہماری ورکشاپ بھی تباہ ہو گئی تھی اور گاڑیاں دو کلومیٹر کے فاصلے تک بکھری ہوی تھیں۔‘ ان نقصانات کے تخمینے لگائے جا رہے ہیں اور عرفان ان ہزاروں پاکستانی تاجروں میں شامل ہیں جو زلزلے اور سونامی سے معاشی طور پر متاثر ہوئے۔

’کچھ گاڑیاں پوری طرح جل گئی تھیں، کوئی دو سو کچھ گاڑیوں کو سونامی لے گئی۔ ‘

آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سربراہ، ایچ ایم شہزاد کا اندازہ ہے کہ تقریباً چار سے ساڑھے چار ہزار استعمال شدہ گاڑیوں کے پاکستانی تاجروں کو زلزلے اور سونامی کے باعث نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور اس نقصان کی کم از کم چھ سے ساڑھے چھ ارب ڈالر کی مالیت ہو سکتی ہے۔

عرفان کی کمپنی لاطینی اور وسطی امریکہ، افریقہ، مشرق بعید اور پاکستان کو استعمال شدہ گاڑیاں بر آمد کرتی ہے۔

مسٹر شہزاد کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں ننانوے فیصد گاڑیاں جاپان ہی سے در آمد ہوتی ہیں۔ تباہی کے وسیع پیمانے سے اندازہ لگتا ہے کہ ہمارے کاروبار پر اثرات چھ ماہ تک رہیں گے۔‘

ان کے مطابق، پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کے پچیس سے ستائیس سو ڈیلر ہیں، جن کا پہلے ہی سے گاڑیاں بنانے والی مقامی صنعتکاروں سے مقابلہ ہے۔

’ہاں، ہمارے اخراجات تو اب بڑھیں گے۔ جہازوں سے سامان بھیجنے کی تعداد اور نیلامیاں متاثر ہوئی ہیں۔‘

وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ اس کے ایک وجہ جاپانی کرنسی ین کی قدر میں اضافہ ہے۔ جاپان میں پاکستانی تاجر سید عرفان نے وضاحت کی کہ اس سے گاڑیاں کیوں مہنگی ہو رہی ہیں۔

’گاڑیوں کی قیمتیں دو طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ایک تو ین پر اثر ہوا، جو گاڑی ایک لاکھ ہزار ڈالر میں فروخت رہی تھی، وہ اب ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر کی ہوگی ہے۔اور ابھی مارکیٹ میں مال بھی کم آ رہا ہے۔ پھر مخصوص گاڑیوں کی قیمتیں بڑھی ہیں۔‘

اس کے علاوہ، بندرگاہ میں ان کا یارڈ ابھی قابلِ استعمال نہیں ہے، اور متبادل بندر گاہ اور گودام ڈھونڈنے کی وجہ سے مال برداردی کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔

اے پی ڈی ایم اے کے سربراہ ایچ ایم شہزار نے بتایا کہ وہ بھی جاپان میں متاثرہ بندرگاہوں کی وجہ سے متبادل کی تلاش میں ہیں۔

اسلام آباد کے رہائشی اور گاڑیوں کی مارکیٹ میں دلچسپی رکھنے والے فیصل متین کے خیال میں ’جاپان سے درآمد استعمال شدہ گاڑیاں فیکٹری سے بنی گاڑیوں سے تھوڑی سستی ہوتی ہیں۔ وہ زیادہ پائیدار بھی ہوتی ہیں اور اچھی قیمت سے دوبارہ بک جاتی ہے۔‘

پاکستان میں اس سارے معاملے میں گاڑیاں بنانے والے مقامی صنعتکاروں کو ایک طرح سے فائدہ ہوا ہے۔ ملک میں کئی سالوں سے استعمال شدہ گاڑیوں کے ڈیلر اور مقامی صنعت کاروں کے درمیان سخت مقابلہ رہا ہے، خاص طور سے گاڑیوں کے ‘ڈپریسیشن ریٹ‘ یا قیمتوں کی وقت کے ساتھ ساتھ کمی۔ حال ہی میں حکومت نے ان نرخوں کو پچاس فیصد سے ساٹھ فیصد کر دیا ہے۔

پاکستان میں گاڑی اسمبل کرنے والے ایک بڑی کمپنی پاک سزوکی کے ترجمان شفیق شیخ کہتے ہیں کہ اس قدم سے مقامی صنعت کو نقصان ہوگا۔ ‘دیکھیں، ہماری صنعت سے نوکریاں ہوتی ہیں، ٹیکنالوجی ملک میں آتی ہے اور سرمایہ کاری ہوتی ہے۔‘ تاہم وہ اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ جاپان میں آئے سونامی اور زلزلے سے کوئی فرق پڑے گا۔

’کچھ دن کے لئے جاپان میں چند چھوٹے وینڈرز نے کام روکا تھا۔ مگر ہماری سپلائی تو ٹھیک ہے۔‘ دوسری جانب، جاپانی شہر یوکوہاما میں سید عرفان اپنے کاروبار کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں