اردو کی سیسمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اردو کے پروگرام کو نیویارک کی گلیوں کے بجائے پاکستان کے دیہاتی پس منظر میں فلمایا جائے گا۔

امریکہ کے ترقیاتی امداد دینے کے ادارے یو ایس ایڈ نے امریکہ میں بچوں کے مقبول ترین پروگرام سیسمی سٹریٹ کو اردو زبان میں بنانے کے لیے دو کروڑ ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یو ایس ایڈ کی طرف سے ان پروگراموں کی اردو زبان میں تیاری کے لیے دو کروڑ ڈالر امداد دینے کے فیصلہ کو امریکہ کی پاکستانیوں کے دل اور دماغ جیتنے کی مہم کا حصہ کہا جا رہا ہے اور ان پروگرائموں کا مقصد پاکستان میں تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

سیسمی اسٹریٹ کے سلسلے کے پروگراموں کی عکس بندی اس سال لاہور میں کی جائے گی۔

یوایس ایڈ کے ترجمان ورجن مورگن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پرگراموں کی تیاری بھی اس منصوبے کا حصہ جس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے ڈھانچے کو ترقی دینا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو امداد کی سخت ضرورت ہے۔

سیسمی سٹریٹ کی عکس بندی پاکستان میں دیہاتی پس منظر میں کی جائے گی جس میں چائے کے کھوکھے اور دیہاتیوں کو اپنے گھروں کے صحنوں میں بیٹھا ہوا دکھایا جائے گا۔

برطانوی اخبار گارڈئن کے مطابق سیسمی شو میں رانی نامی کی ایک پتلی مرکزی کردار ادا کرے گی جس کی عمر چھ سال ہے اور جو کہ ایک کسان کی بیٹی ہے۔

سیسمی سٹریٹ کے انگریزی زبان میں پروگرام انیس سو نوے کی دہائی میں پاکستان میں ٹی وی پر نشر ہوتے رہے ہیں اور اس کے کردار پاکستانیوں کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔

انگریزی زبان میں ہونے کی وجہ سے پاکستان کی ایک محدود آبادی ہی ان سے مستفید ہو سکی تھی۔

رفیع پیر تھیٹر کو جو سیسمی ورکشاپ کے ساتھ مل کر اس کو اردو زبان میں تیار کر رہی ہے امید ہے کہ اس مرتبہ پاکستان کی اکثریت اس پروگرام کو سمجھ سکے گی۔

عمران پیرزادہ نے امریکی جریدے نیوز ویک کو بتایا کہ اس میں جو پتلی مرکزی کردار ادا کر رہی ہے وہ ایک بہادر اور جرات مند لڑکی کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس ماحول کی عکاسی کرے گی جس میں پاکستان کے دیہات میں ایک لڑکی کو گزرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس لڑکی کا سفر لامحالہ طور پر پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو بھی چھوئے گا لیکن مذہبی بحث میں براہراست نہیں پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم بچوں پر کوئی لیبل نہیں لگانا چاہتے۔‘ انھوں نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد تعلیم کو فروغ دینا ہے۔