پانچ کارکان لاپتہ: جئے سندھ متحدہ محاذ

جئے سندھ تحریک کے کارکن تصویر کے کاپی رائٹ British Broadcasting Corporation

سندھ کی قوم پرست جماعت جئے سندھ متحدہ محاذ کے مزید پانچ کارکن لاپتہ ہوگئے ہیں۔ تنظیم کے مرکزی جنرل سیکریٹری مظفر بھٹو کے چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارکن کراچی سے حراست میں لیے گئے ہیں۔

شاہنواز کے مطابق پیر کی شام ان کے بھائی مظفر بھٹو کی رہائی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتال کے بعد وہ ایک ہوٹل پر کھانا کھانے گئے تھے جہاں سے وہ اپنے شہروں کی جانب جا رہے تھے کہ رینبو سینٹر کے نزدیک بس اسٹاپ سے انہیں حراست میں لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار دو ڈبل کیبن گاڑیوں میں سوار تھے، ان کے ساتھ ایک پولیس موبائیل بھی موجود تھی، یہ گرفتاریاں دیکھ کر ان کے دیگر ساتھی جو پیچھے آرہے تھے فرار ہوگئے۔

تاہم ایس پی صدر پولیس ارشاد سیھڑ نے ان گرفتاریوں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب ان گمشدگیوں کے خلاف حیدرآباد، نوابشاھ، سکرنڈ، قمبر اور دیگر شہروں میں جئے سندھ متحدہ محاذ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل پیر کو جئے سندھ متحدہ محاذ کے مرکزی جنرل سیکریٹری مظفر بھٹو کی بیگم صائمہ بھٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پچیس فروری کو مظفر سکھر سے حیدرآباد روانہ ہوگئے تھے اور حیدرآباد سے کوئی پچیس کلومیٹر دور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے انہیں روکا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

مظفر بھٹو سنہ دو ہزار پانچ میں بھی لاپتہ ہوگئے تھے اور اٹھارہ ماہ بعد انہیں رہا کیا گیا۔ صائمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر پر بم دھماکوں اور تخریب کاری کے مقدمات دائر کیے گئے تھے مگر عدالتوں نے انہیں ان تمام مقدمات سے بری کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی جب مظفر کو تحویل میں لیا گیا تو ان پر بے انتہا تشدد کیا گیا، جس کے باعث ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی تھی جس کا پچھلے دنوں آپریشن کرایا گیا ہے اس کے علاوہ ان کے شوہر دمہ کے مرض میں بھی مبتلا ہیں۔

اسی بارے میں