مختاراں مائی فیصلہ، پانچ ملزمان رہا، ایک کو عمر قید

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مختاراں مائی کو دو ہزار دو میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جنوبی پنجاب کے گاؤں میروالہ میں پنچائیت کے فیصلے پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والے مختاراں مائی کے مقدمے میں چھ میں سے پانچ ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بحال رکھتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ مختاراں مائی مقدمے میں ایک کے سوا تمام ملزمان کو رہا کر دیا جائے۔

مختاراں مائی مقدمہ، فیصلہ محفوظ

تحفظ صرف کاغذوں میں ہے: مختاراں مائی

یاد رہے کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مختاراں مائی کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب چھ افراد کو موت کی سزا سُنائی تھی ان افراد میں عبدالخالق، اللہ دتہ، فیاض، غلام فرید، فیض مستونگ اور محمد رمضان شامل تھے۔

سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں عبدالخالق کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا جبکہ باقی تمام افراد کو رہا کر دیاگیا تھا۔

سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس شاکر اللہ جان، جسٹس ناصر الملک اور جسٹس ثاقب نثار پر مشتمل تھا۔

مختاراں مائی نے مقدمے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ اپنے وکلاء سے مشورہ کر کے کرے گی۔

لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ملزمان کو بری کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئےان تمام افراد کو بھی جیل بھیج دیا تھا جو اُس پنچایت میں شامل تھے۔ اُن افراد میں حضور بخش، محمد اسلم، اللہ دتہ، خلیل ، غلام حسین، محمد قاسم، غلام رسول اور نذر حسین شامل ہیں۔

ُگزشتہ سماعت کے دوران مختاراں مائی کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اُس پنچایت میں شامل افراد بھی اُتنے ہی سزا کے مستحق ہیں جتنے اُن کی موکلہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے۔

ملزمان کے وکیل ملک سیلم کا کہنا تھا کہ مختاراں مائی کا نکاح عبدالخالق سے پڑھا دیاگیا تھا جس کو مختاراں مائی تسلیم نہیں کرتی۔اُنہوں نے کہا کہ مختاراں مائی کے بھائی نے بھی اُس عورت کے ساتھ نکاح نہیں کیا جس کو اُس نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

سماعت کے دوران خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرزانہ سعید کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے اُنہیں مایوسی ہوئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے پنچایت میں بیٹھے ہوئے افراد کو تقویت ملے گی اور اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ملک کے دور دراز علاقوں میں پنچایت خواتین کو سزا دینے میں ہچکچاہٹ سے کام نہیں لےگی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے حوالے سے غیر سرکاری تنظیمیں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں گی۔

یاد رہے کہ مختاراں مائی کےساتھ جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی میں پنچایت کے فیصلے کی روشنی میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کا مقدمہ اٹھائیس جون سنہ دوہزار دو میں متعلقہ تھانے میں درج کیا گیا۔

اکتیس اگست سنہ دوہزار دو کو ڈیرہ غازی خان کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چودہ میں سے آٹھ ملزمان کو بری کردیا جبکہ عبدالخالق سمیت چھ افراد کو موت کی سزا سنائی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پانچ ملزمان کی سزائے موت ختم کردی تھی اور اُنہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عبدالخالق کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بحال رکھا ہے۔

اسی بارے میں