سندھ: قوم پرست جماعت کے تین کارکن ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قربان کھاوڑ جئے سندھ متحدہ محاذ کے وائس چیرمین تھے

پاکستان کےصوبے سندھ میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں قوم پرست جماعت کے تین کارکن ہلاک ہوگئے ہیں جن کی جھلسی ہوئی لاشیں ایک کار سے ملی ہیں۔

یہ واقعہ سانگھڑ کے علاقے باکھوڑو موری کے قریب جمعرات کو پیش آیا۔

ڈی پی او سانگھڑ عبداللہ شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ سفید کرولا گاڑی میں سوار یہ افراد بگٹی کوٹ سے واپس جا رہے تھے کہ دو گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک گولی گاڑی کے فیول ٹینک میں لگی جس سےگاڑی کو آگ لگ گئی۔

ڈی پی او مطابق کے واقعہ میں تین لوگ جھلس کر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک کو زخمی حالت میں سول ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔

ڈی پی او عبداللہ شیخ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے یا اس میں کوئی گروہ ملوث ہے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ان کے مطابق تینوں لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے ہی ممکن ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سرائی قربان کھاوڑ جئے سندھ متحدہ محاذ کے وائس چیرمین اور روپلو چولیانی سرگرم کارکن تھے۔

پولیس کے مطابق زخمی شخص کا نام نوراللہ تنیو ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت سرائی قربان کھاوڑ، روپلو چولیانی اور نامعلوم ڈرائیور کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ تنظیم سندھ کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔

سندھ پولیس پچھلے چند سالوں سے بجلی کے کھنبوں اور ریلوے ٹریکس پر ہونے والوں دھماکوں کا الزام اسی تنظیم پر عائد کرتی ہے جبکہ سندھ سے لاپتہ ہونےوالے کارکنوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی اس جماعت سے تعلق رکھتی ہے۔

دوسری جانب جئے سندھ متحدہ محاذ کا کہنا ہے کہ مقتول رہنما سندھ کے دورے پر تھے جن کو حملہ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔

تنظیم کے رہنما سجاد شر نے واقعہ کے خلاف دس روزہ سوگ اور احتجاج کا اعلان کیا ہے جس کی سندھ کی دیگر قوم پرست جماعتوں نے بھی حمایت کی ہے۔

سرائی قربان کھاوڑ شھدادکوٹ اور روپلو چولیانی کا تعلق لاڑکانہ سے تھا۔

واقعہ کے بعد شھدادکوٹ، ڈوکری اور کچھ دیگر شہروں میں کاوبار بند ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں