’بھٹو کو پہلے ہی مار دیا گیا تھا‘

بابر اعوان
Image caption جسٹس مولوی مشتاق ذوالفقار علی بھٹو سے تعصبانہ رویہ رکھتے تھے: بابر اعوان

صدارتی ریفرنس کی پیروی کرنے والے وکیل بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے سے قبل ہی مار دیا گیا تھا اور چار اپریل اُنیس سو اُنہتر کو محض رسمی کارروائی کے لیے اُن کی لاش کو پھانسی دی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ اس ضمن میں ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کریں گے۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دی جانے والی سزا سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں بھی کسی فوجی آمر نے اقتدار پر قبضہ کیا تو عدلیہ میں شامل کمزور لوگ اُس کے ساتھ ہوں گے۔

یہ ریمارکس اُنہوں نے صدارتی ریفرنس کی پیروی کرنے والے وکیل بابر اعوان کے دلائل کے جواب میں دیے جس میں اُنہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا فیصلہ سُنانے والے بینچ میں شامل مولوی مشتاق سابق وزیر اعظم کے ساتھ تعصبانہ رویہ رکھتے تھے۔کیونکہ اُنہوں دو مرتبہ نظر انداز کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نہیں بنایاگیا تھا۔اُنہوں نےکہا کہ نظر انداز کیےجانے کے بعد مولوی مشتاق دو سال کی چھٹی لیکر سوئٹزرلینڈ چلےگئے تھے اور جب فوجی صدر ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا تو وہ ملک میں واپس آگئے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کےگیارہ رکنی بینچ نےاس صدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔ عدالت نے مولوی مشتاق کے بیرون ملک جانے سے متعلق وزارت قانون سے ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ موجودہ عدلیہ نے فوجی آمروں کا راستہ بند کردیا ہے اب کوئی فوجی آمر نہیں آئےگا اور نہ ہی عدلیہ کا کوئی بھی جج اُس کا ساتھ دے گا۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ وہ اس سے متعلق دلائل دیں کہ کس طرح مولوی مشتاق کس طرح ذوالفقار علی بھٹو کے لیے تعصبانہ رویہ رکھتے تھے۔

بابر اعوان نے کہا کہ اس سے متعلق ذوالفقار علی بھٹو نے متعدد درخواستیں بھی دی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ مولوی مشتاق کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے کیونکہ اُنہوں نے (بھٹو) نے مولوی مشتاق کو دو بار لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نہیں بنایا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ ان درخواستوں پر مولوی مشتاق نے کہا تھا کہ اُنہیں اس مقدمے کی سماعت کے بعد سُنا جائے گا جس پر عدالت نے حیرت کا اظہار کیا اور سرکاری وکیل سے کہا کہ وہ اس سے متعلق تمام درخواستوں کو یکجا کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے کہا کہ وہ اس بات پر زور دیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ اُنیس سو چوہتر میں درج کیاگیا تھا اور اُنیس سو پچھتر میں عدم پیروی کی بنا پر خارج کردیا گیا تو پھر تین سال کے بعد اس مقدمے کو دوبارہ کیسے شروع کیاگیا۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ یہ مقدمہ دوبارہ کُھل جائے گا جس پر بینچ میں شامل جسٹس سائر علی نے کہا کہ وہ اب خواب سے نکل آئیں اور اس مقدمے کا ریکارڈ بہت اہم ہے جس کو تلاش کیا جانا چاہیے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے سے قبل ہی مار دیا گیا تھا اور چار اپریل اُنیس سو اُنہتر کو محض رسمی کارروائی کے لیے اُن کی لاش کو پھانسی دی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ اس ضمن میں ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جج مولوی مشتاق نے تین مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھےجن کے مطابق سابق وزیر اعظم کو دو تین یا چار اپریل کو پھانسی دی جانی تھی۔

عدالت نے پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ لاہور کے تھانہ اچھرہ میں اُنیس سو چوہتر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جو ایف آئی آر درج کی گئی تھی اُس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مقدمہ عالمی نوعیت کا ہے اور اس میں تمام حقائق کو سامنے لایا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے وکیل اے کے ڈوگر نے عدالت میں درخواست دی جس میں کہا گیا کہ یہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں عوامی مفاد کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھٹو ایک متنازعہ شخصیت تھے جن کی پھانسی پر لوگوں نے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں جن میں اس ریفرنس کی پیروی کرنے والے بابر اعوان بھی شامل ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بینچ نے ابھی اُن کی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ عدالت نے اس ریفرنس کی سماعت چار مئی تک کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں