وزیرستان: ’القاعدہ رہنما کا بیٹا زخمی‘

ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر قرار داد منظور کی گئی تھی
،تصویر کا کیپشن

ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر قرار داد منظور کی گئی تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق پیر کو ہونے والے امریکی جاسوس طیاروں کے حملے میں ابوعکاش العراقی کے بیٹے نعیم عکاش شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

میرعلی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ پیر کی شام تحصیل میر علی شہر سے دس کلومیٹر جنوب کی جانب گاؤں خیسورہ میں دو امریکی جاسوس طیاروں سے ایک گاڑی اور ایک سرکاری ٹیوب ویل کو نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ٹیوب ویل پر ہونے والے حملے میں القاعدہ کے ایک اہم رہنما ابو عکاش العراقی کے اُنیس سالہ بیٹے نعیم اکاش زخمی ہو گئے ہیں۔جنھیں مقامی طالبان نے علاج کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

القاعدہ کے اہم رہنماء ابو عکاش العراقی اکتوبر دو ہزار آٹھ میں میرعلی میں ہی ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ابو عکاش میرعلی میں ہونے والے واقعے سے پہلے وانا میں تھے اور وہ اس وقت وانا سے میرعلی منتقل ہوگئے تھے جب وانا میں مُلا نذیر نے غیر مُلکیوں کے خلاف کارروائی کر کے تمام ازبکوں کو وانا سے بے داخل کر دیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ ابو عکاش العراقی کا غیر مُلکی ازبکوں کے ساتھ دوسرے عربوں کی نسبت ہمدردیاں زیادہ تھیں اس لیے وہ وانا چھوڑ کر اپنے بال بچوں کے ساتھ شمالی وزیرستان منتقل ہوگئے تھے۔

طالبان کے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابو عکاش کی ہلاکت کے بعد نعیم عکاش کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔

پیر کی شام کو دو امریکی جاسوس طیاروں کے حملے میں سات ہلاک افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مقامی شدت پسند بتائے جاتے ہیں اور ابھی تک نہیں معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ان کا تعلق کس گروپ سے ہے۔

البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے شدت پسند حافظ گلبہادر گروپ کے بتائے جاتے ہیں۔جن میں ایک کمانڈر مولانا بشیر کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔

اس علاقے میں پہلے بھی متعدد ڈرون حملے ہو چکے ہیں جس میں مقامی شدت پسندوں کے علاوہ غیر ملکی شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ علاقہ میدانی ہے اور یہاں پر پہاڑی سلسلے بہت کم ہیں۔