پارلیمنٹ کیوں خوش ہے

  • وسعت اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی متفقہ مذمتی قرار داد، عسکری اداروں کی جانب سے پیشہ ورانہ کوتاہی کے اعتراف اور آئندہ پاکستان کی سالمیت و خود مختاری کے بھرپور تحفظ کے سرکاری عزم کے باوجود لگ یہ رہا ہے کہ بظاہر جو کہا جا رہا ہے وہ شاید نہیں ہو رہا اور جو نہیں کہا جا رہا شاید وہ ہو رہا ہے۔

عام طور پر جس ملک کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ دوسرے ملک نے اس کی خودمختاری کو پامال کر دیا ہے وہ علامتی طور پر ہی سہی لیکن دو اقدامات ضرور کرتا ہے۔

اول یہ کہ سفارتی تعلقات منجمد کر دیے جاتے ہیں اور صلاح مشورے کے نام پر ہی سہی اپنے سفیر کو چند دنوں کے لیے واپس بلا لیا جاتا ہے۔ دوم یہ کہ ایسی کوئی بھی شکایت جو ملکی سالمیت و خودمختاری کی خلاف ورزی سے متعلق ہو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل یا سیکرٹری جنرل کے نوٹس میں ضرور لائی جاتی ہے۔ پاکستان نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

صرف یہ اطلاع آئی کہ دو دن کے لیے آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان رابطہ منقطع ہوا۔ پھر یہ اطلاع آئی کہ پاکستان نے امریکی تفتیش کاروں کو اسامہ کے زیرِ حراست اہلِ خانہ سے پوچھ گچھ کی اجازت دے دی۔ پھر یہ اطلاع آئی کہ پاکستان نے امریکہ کو ایبٹ آباد میں تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے ملبے کو واپس لے جانے کی اجازت دے دی۔

،تصویر کا کیپشن

پارلیمنٹ اسی بات پر خوش ہے کہ پہلی مرتبہ فوجی قیادت نےخود کواس کے روبرو پیش کر کےایبٹ آباد معاملے میں غلطی کا اعتراف کیا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایبٹ آباد واقعہ کے دس روز بعد امریکی سفیر کو طلب کیا۔ آیا یہ طلبی احتجاجاً تھی یہ کوئی رسمی ملاقات تھی۔ اب تک دفترِ خارجہ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔ اب تک یہ بھی ثابت نہیں ہو پایا کہ پاکستان نےامریکہ سے ریاستی سطح پر باضابطہ احتجاج کیا ہو یا امریکی سینٹر جان کیری سے درخواست کی ہو کہ یہ وقت ان کے دورہِ اسلام آباد کے لئے سازگار نہیں۔یا حزبِ اختلاف کے رہنما نواز شریف نے علامتی طور پر امریکی سفیر سے ملنے سے انکار کر دیا ہو۔صرف یہ خبر آئی کہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل خالد شمیم وائن نے دورہ امریکہ منسوخ کردیا۔

جہاں تک پارلیمنٹ کی مشترکہ احتجاجی قرار داد کا معاملہ ہے تو اس میں رسمی غصہ زیادہ جھلکتا ہے اور ٹھوس اقدامات کو مبہم رکھاگیا ہے۔سب سے اہم مطالبہ یہ کیاگیا ہے کہ ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے جو ایبٹ آباد آپریشن کی تحقیقات کرے۔لیکن اس کمیشن کا دائرہ کار کیا ہو۔ آیا یہ صرف دفاعی نظام میں پڑنے والےشگافوں کی تحقیقات کرے یا اس سوال کا بھی جواب ڈھونڈے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ایک طویل عرصے تک کن عوامل اور لوگوں کی مدد سے رہ پایا اور خود کو پوشیدہ رکھ پایا۔ کمیشن کب قائم کیا جائے اور کتنے دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ کیا اس رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد لازمی ہوگا۔ کیا اس کمیشن کی رپورٹ کو عام کیا جائےگا۔ کم از کم قرار داد کے مسودے سے ان بنیادی سوالات کا کوئی جواب نہیں ملتا۔

پارلیمنٹ اسی بات پر خوش ہے کہ پہلی مرتبہ فوجی قیادت نے خود کواس کے روبرو غیرمشروط بریفنگ اور سوال و جواب کے لیے پیش کیا اور ایبٹ آباد معاملے میں غلطی کا اعتراف بھی کرلیا۔مگر بقولِ جون ایلیا

میں اپنے جرم کا اقرار کرکے

کچھ اور ہے جسے چھپا گیا ہوں

پارلیمنٹ اتنی خوش ہے کہ وہ خود سے بھی یہ پوچھنا بھول گئی کہ تین برس پہلے اس نے ایسے ہی ایک مشترکہ اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف جو مشترکہ قرار داد منظور کی تھی اس کے کتنے نکات پر کتنا عمل ہوا۔

نہ ہی پارلیمنٹ کو وہ بنیادی قانون تلاش کرنے کی خواہش ہے جس سے معلوم ہو کہ سکیورٹی ایجنسیاں کس ایکٹ کے تحت کام کرتی ہیں، ان کا قانونی دائرہ کار کیا ہے، وہ اپنے اعلانیہ و غیر اعلانیہ اقدامات و پالیسیوں کے سلسلے میں عملی اور حتمی طور پر کس منتخب یا غیر منتخب اتھارٹی کو جواب دہ ہیں اور پارلیمان ان کے دائرہ کار کو مربوط بنانے کے لیے کیا قانون سازی کرسکتی ہے۔ان کا بجٹ کس مد میں سے آتا ہے، فیصلہ کون کرتا ہے، اخراجات پر کون نظر رکھتا ہے، صوابدیدی خرچے کیا ہیں اور غیر صوابدیدی بجٹ کتنا ہے۔ان کی سرگرمیوں اور فرائص کے بارے میں کس وزارت کے توسط سے کونسی پارلیمانی کمیٹی پوچھ سکتی ہے یا طلب کرسکتی ہے۔

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات پارلیمنٹ تو کجا خود عدلیہ کو بھی نہیں معلوم۔اور یہی وہ سوالات ہیں جن کے باضابطہ جوابات سامنے آئے بغیر حکومت کے اندر ایک اور پوشیدہ حکومت اور اس پوشیدہ حکومت کے پوشیدہ فیصلوں اور ان فیصلوں کے غیر پوشیدہ داخلی و خارجی اثرات کا معمہ کبھی حل نہیں ہوسکے گا۔ اندھیرے کا علاج اگر مزید اندھیرے سے کیا جائے تو ایسے علاج کا نتیجہ ہمیشہ اندھیر کی صورت میں نکلتا ہے۔لیکن یہ بات جاننے کے لیے بھی روشنی میں آنا پڑتا ہے۔

ورنہ تو چمگادڑیں بھی آخر اسی دنیا میں ہی زندہ ہیں۔