آخری وقت اشاعت:  اتوار 22 مئ 2011 ,‭ 18:36 GMT 23:36 PST

کراچی:نیول بیس پر شدت پسندوں کا حملہ، دو طیارے تباہ، عمارت پر قبضہ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

کراچی میں پاکستان بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر ایک درجن سے زیادہ شدت پسندوں نےحملہ کیا ہے۔ نیوی اہلکاروں کے مطابق حملہ آوروں نے میری ٹائم نگرانی کرنے والے دو طیاروں پی تھری اورین کو نقصان پہنچایا ہے۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے بحریہ کے بیس پر حملے کی ذمہ قبول کر لی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے نمائندے دلاور خان وزیر کو فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا انتقام ہے۔

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے نمائندہ دلاور خان کو فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کی ۔ انہوں نے کہا یہ حملہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا انتقام ہے۔

جدید اسلحہ سے لیس حملہ آوروں نے اتوار کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر تین اطرف سے حملہ کیا۔ حملہ آوروں نےہینگروں میں کھڑے طیاروں پر آر پی جی سے گرنیڈ داغے جس سے ایک پی تھری اورین مکمل تباہ ہو گیا جبکے دوسرے طیارے کو بھی نقصان پہنچا۔

شدت پسندوں کے حملے میں جیٹ فیول کے ٹینکروں میں آگ گئی اور اس سے کئی دھماکے ہوئے جن کی شدت دور دور تک محسوس کی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا اور ساری رات دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی جاتی رہی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند تین طرف سے بیس میں داخل ہوئے تھے اور اب انہوں نے ایک عمارت پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سکیورٹی فورسز ان کو ہلاک یا گرفتار کرنے کے لیے آپریشن کر رہی ہیں۔

طالبان اور القاعدہ پاکستان کے دشمن ہیں اور جو لوگ ان کی فاتح خوانی کرتے ہیں یا ان کی تعریف کرتے ہیں ان سے اپیل ہے کہ اپنے ملک کو کمزور نہ کریں۔

وزیر داخلہ رحمان ملک

سورج طلوع ہونے کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے، خود کار اسلحے اور دستی بم کے دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ پاکستان بحریہ کے ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتے نظر آتے ہیں۔

نیوی کے ترجمان کموڈور عرفان الحق کے مطابق اثاثے بچانے کے لیے احتیاط سے آپریشن کیا جا رہا ہے۔ نیوی کے ترجمان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ شدت پسندوں کے حملے میں کوئی غیر ملکی ہلاک یا یرغمال بنایا گیا ہے۔

نیوی کے ترجمان کموڈور عرفان الحق نے بتایا کہ شدت پسندوں کے حملے میں نیوی کے چار اہلکار اور ایک رینجر ہلاک ہوئے ہیں جبکہ نو افراد زخمی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ طالبان اور القاعدہ پاکستان کے دشمن ہیں اور جو لوگ ان کی فاتح خوانی کرتے ہیں یا ان کی تعریف کرتے ہیں ان کی حمایت کے لیے جو بھی اقدام کرتے ہیں ان سے وہ اپیل کرتے ہیں کہ اپنے ملک کو کمزور نہ کریں۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اپنے ہی جہاز اور اثاثوں کو نقصان پہنچانے والے دراصل دشمن کی مدد کر رہے ہیں، وہ ملک کے دفاع کو کمزور کر رہے ہیں۔

کراچی میں پاکستان بحریہ کے بیس پر شدت پسندوں کا حملہ 2009 میں راولپنڈی میں پاکستان فوج کے ہیڈکواٹر پر ہونے والے حملے کے بعد کسی فوجی مرکز پر پہلا حملہ ہے۔ راولپنڈی جی ایچ کیو پر حملہ بائیس گھنٹے تک جاری رہا تھا جس میں بائیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بارہ سے پندرہ حملہ آوروں نے پی این ایس مہران میں کھڑے ہوئے طیاروں کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر دستی بم پھینکے اور فائرنگ کی۔

پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ جبکہ میڈیا کو اندر جانے کی اجازت نہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے دنوں کراچی میں پاکستان بحریہ کی دو بسوں کو تخریب کاروں نے نشانہ بنایا تھا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔